نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد منظرعام پرآگئیں

نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد منظرعام پرآگئیں
کیپشن: نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد منظرعام پرآگئیں

ویب ڈیسک: وینزویلا کی حزبِ مخالف کی معروف رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو تقریباً ایک سال بعد منظرعام پر آگئی ہیں۔

ماچادو طویل عرصے تک زیرِ زمین زندگی گزار رہی تھیں، تاہم اوسلو پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے ہوٹل کی بالکونی سے ہزاروں حامیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ حامی آزادی کے نعرے لگا رہے تھے اور ماچادو ہاتھ ہلا کر ان کا جواب دیتی رہیں۔

اس سال کا نوبیل امن انعام ماچادو کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی مبینہ آمرانہ حکمرانی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کھڑے ہونے پر دیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی مرکزی تقریب میں وہ خود شریک نہ ہو سکیں، اور ان کی بیٹی آنا کورینا سوسا ماچادو نے ان کی جانب سے یہ اعزاز وصول کیا۔

نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریدنیس کے مطابق ماچادو رات گئے اوسلو پہنچی اور سب سے پہلے اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وہ ہوٹل کی بالکونی پر آئیں اور اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔

ماچادو آخری بار 9 جنوری کو عوامی سطح پر دیکھی گئی تھیں، جب انہوں نے مادورو کی تیسری بار صدارت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ وینزویلا حکومت نے انہیں ملک چھوڑنے کی صورت میں "مفرور" قرار دینے کی دھمکی دی تھی، جس کی وجہ سے ان کی روانگی انتہائی خفیہ رکھی گئی۔

ناروے کی اوسلو یونیورسٹی کی لاطینی امریکا ماہر پروفیسر بینیڈکٹے بُل کے مطابق، ماچادو کی وطن واپسی پر انہیں گرفتار کیے جانے کا امکان موجود ہے، مگر حکومت ابھی تک محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے کیونکہ گرفتاری عالمی سطح پر شدید سیاسی ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔

Watch Live Public News