اقوام متحدہ نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کردی

اقوام متحدہ نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کردی

(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کردی۔

رپورٹ میں طالبان رجیم  کے دور میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور پابندیوں کا پردہ فاش کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے دور میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب، بنیادی آزادیوں پر مسلسل پابندیاں عائد کردی گئیں ۔طالبان کی جانب سے میڈیا پر پابندیاں برقرار، ریڈیو اسٹیشنز کی بندش، صحافیوں کی گرفتاری اور میڈیا دفاتر کی تلاشیا ں شروع کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوڑوں کی سزا کی عمومی تشہیر بند، کوڑے مارنے کا سلسلہ بدستور جاری، 137 افراد کو جسمانی سزا دی گئی۔گزشتہ 3 ماہ میں افغانستان میں 29 من مانی گرفتاریاں، تشدد کے 5 واقعات اور 8 ہلاکتیں ہوئیں ۔ طالبان رجیم  کے تحت انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور اظہار رائے کی جگہ مسلسل محدود ہو گئی۔ متعدد میڈیا ہاؤسز کی نشریات معطل اور بند، صحافی گرفتار، مواصلاتی سامان ضبط کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق  سرکاری ملازمین کے سمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ افغانستان میں مذہبی اقلیتوں کو بھی پابندیوں کا سامنا، بدخشاں میں اسماعیلی عبادت گاہیں بند یا مساجد میں تبدیل کی گئیں۔عاشورہ کی تقریبات پر پابندیاں، مواصلاتی بندش اور شیعہ افراد کی گرفتاریا ں کی گئیں ۔بدخشان میں اسماعیلی عبادگاہیں بند، عاشورہ کی محافل اور مراسم پر پابندیاں عائد ہیں ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر پابندیاں برقرار؛ حجاب قوانین، محرم کی شرط اور تعلیم پر پابندیاں جاری ہیں ۔طالبان کے نئے فرمان نمبر 18 سے خواتین کے نکاح، طلاق اور علیحدگی کے حقوق مزید محدود ہوئے۔ہرات  میں طالبان پولیس امر بالمعروف کے ہاتھوں مبینہ طور پر 'غیر مناسب حجاب' پر کم از کم 30 خواتین گرفتار ہوئیں ۔خواتین کے پردے پر تفصیلی احکامات جاری کیے گئے ہیں جن میں  مکمل جسم کو ڈھانپنا لازم، زیورات اور خوشبو پر پابندی عائد کی گئی ہے۔حجاب کی خلاف ورزی، چھوٹی داڑھی اور موسیقی سننے پر 389 مرد و خواتین کو سزا دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق  دکانوں اور اسپتالوں میں محرم کے بغیر خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔خواتین ہیلتھ ورکرز کے لیے بھی محرم کا ساتھ ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔کم عمر بچوں کی شادی جائز قرار دی گئی ہے۔عورت کے خلع لینے کو تقریا ناممکن بنا دیا گیا۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی برقرار ہے جبکہ رمضان میں روزہ توڑنے پر 6 افراد کو سرعام کوڑوں کی سزا دی گئی۔

Watch Live Public News