نایاب بیماری، امریکی شخص ہر سرجری کے بعد روانی سے ہسپانوی  بولنے لگتا ہے

نایاب بیماری، امریکی شخص ہر سرجری کے بعد روانی سے ہسپانوی  بولنے لگتا ہے

(ویب ڈیسک )ایک 33 سالہ امریکی شخص میں ایک نہایت نایاب بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جسے فارِن لینگویج سنڈروم (Foreign Language Syndrome) کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے وہ ہر بار سرجری کے بعد ہوش میں آتے ہی روانی سے ہسپانوی زبان بولنے لگتا ہے، حالانکہ عام حالات میں وہ ہسپانوی نہیں جانتا۔

اسٹیفن چیز (Stephen Chase) کی عمر صرف 19 سال تھی جب وہ گھٹنے کی سرجری کے بعد جاگا اور روانی سے ہسپانوی بولنے لگا، حالانکہ سرجری سے پہلے وہ ہسپانوی میں صرف 10 تک گنتی اور چند عام فقرے ہی جانتا تھا۔ سرجری کے بعد تقریباً 20 منٹ تک وہ مکمل روانی کے ساتھ ہسپانوی میں گفتگو کرتا رہا، اس کے بعد وہ دوبارہ انگریزی بولنے لگا۔

اسٹیفن چیز نے LadBible کو بتایا  “میں ہسپانوی نہیں بولتا تھا۔ ہائی اسکول میں صرف ایک سال ہسپانوی پڑھی تھی، وہ بھی بالکل ابتدائی سطح پر۔ شاید میں 10 تک گنتی کر سکتا تھا اور چند جملے جانتا تھا، بس اتنا ہی۔”

سالٹ لیک سٹی، یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے تین بچوں کے والد اسٹیفن کو خود یاد ہی نہیں کہ وہ ہسپانوی بول رہا تھا۔ اسے صرف اتنا یاد ہے کہ جب وہ سرجری کے بعد ہوش میں آیا تو نرسیں اس سے انگریزی میں بات کرنے کو کہہ رہی تھیں، جس پر وہ الجھن کا شکار ہو گیا۔ اس کے مطابق، اس کے ذہن میں وہ بالکل درست بات کر رہا تھا، لیکن بعد میں اسے بتایا گیا کہ وہ روانی سے ہسپانوی بول رہا تھا۔

33 سالہ وکیل کو فارِن لینگویج سنڈروم کی تشخیص ہوئی، جو کہ ایک انتہائی نایاب طبی کیفیت ہے۔ اس بیماری کے صرف تقریباً 100 کیسز 1907 سے اب تک ریکارڈ پر موجود ہیں۔

 نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، اس کی ممکنہ وجوہات میں دماغی چوٹ، ٹیومر، ذہنی دباؤ اور جنرل اینستھیزیا شامل ہو سکتے ہیں۔

اسٹیفن چیز کا کیس اس لیے منفرد ہے کیونکہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے متعدد بار سرجریوں کے بعد یہی کیفیت ظاہر کر چکا ہے۔ کھیلوں کی چوٹوں کے باعث ہونے والی سرجریاں ہوں یا حالیہ ناک کی سرجری (سیپٹوپلاسٹی)، ہر بار اینستھیزیا کے بعد جاگتے ہی وہ روانی سے ہسپانوی بولنے لگتا ہے۔

اسٹیفن کا کہنا ہے کہ “نرسیں مجھ سے پوچھتی ہیں کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں یا کیا مجھے درد ہے، اور میں ان سوالات کے جواب ہسپانوی میں دیتا ہوں۔ میرے ذہن میں تو میں بالکل ٹھیک بول رہا ہوتا ہوں، اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ لوگ مجھے کیوں نہیں سمجھ پا رہے۔”

جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ خاص طور پر ہسپانوی ہی کیوں بولتا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بچپن سے ہسپانوی بولنے والے لوگوں کے درمیان پلا بڑھا، زبان کو مسلسل سنتا رہا، حالانکہ اس نے کبھی اسے سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

واضح رہے کہ فارِن لینگویج سنڈروم، فارِن ایکسنٹ سنڈروم سے مختلف ہے۔ فارِن ایکسنٹ سنڈروم میں انسان اپنی مادری زبان ہی بولتا ہے، لیکن اس کا لہجہ غیر ملکی ہو جاتا ہے۔

Watch Live Public News