(ویب ڈیسک )علی رضا: ایک ہسپانوی خاتون نے 16 سال تک گونگی بن کر معذوری کی پنشن حاصل کی، لیکن حال ہی میں ایک پرائیویٹ جاسوس نے اس کا راز فاش کر دیا۔
2003 میں سپین کے علاقے اندلس (Andalucía) میں ایک سپر مارکیٹ میں کام کرنے والی خاتون پر ایک گاہک نے حملہ کیا۔ اس واقعے کے بعد خاتون کو شدید ذہنی صدمہ (post-traumatic stress disorder) ہوا اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بولنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔
خاتون کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے سوشل سیکیورٹی ادارے نے انہیں مستقل معذوری کی پنشن دینا شروع کر دی، جبکہ یہ خرچہ ایک انشورنس کمپنی برداشت کر رہی تھی۔
کئی سال بعد، اس انشورنس کمپنی نے معمول کے مطابق خاتون کی فائل کا دوبارہ جائزہ لیا۔ انہیں کچھ چیزیں مشکوک لگیں، کیونکہ 2009 سے خاتون جن ڈاکٹروں سے علاج کرواتی رہیں (جیسے کہ آنکھوں، ہڈیوں اور جلد کے ماہرین)، انہوں نے کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ خاتون بول نہیں سکتیں۔ اس پر انشورنس کمپنی نے مزید تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایک پرائیویٹ جاسوس کی خدمات حاصل کی گئیں جس نے کچھ ہفتوں تک خاتون کا پیچھا کیا۔ اس نے رپورٹ میں بتایا کہ خاتون عام عورتوں کی طرح سڑک پر باتیں کرتی ہے، اسکول کے باہر دوسری ماؤں سے گپ شپ کرتی ہے، موبائل فون پر بات کرتی ہے اور زومبا کلاسز میں بھی حصہ لیتی ہے۔
ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے، جاسوس نے ایک دن سڑک پر جا کر خاتون سے ایک دکان کا راستہ پوچھا۔ خاتون نے نہ صرف بات کی بلکہ پوری روانی سے اسپینش زبان میں راستہ سمجھا بھی دیا۔ یہ سب کیمرے میں ریکارڈ کر لیا گیا، جو بعد میں عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا گیا۔
جنوری میں، سپین کے ہائی کورٹ آف جسٹس نے انشورنس کمپنی کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اب انشورنس کمپنی کو مزید پنشن نہیں دینی ہو گی۔ خاتون کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خفیہ ریکارڈنگ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ "یہ ثابت ہو گیا ہے کہ خاتون نے جھوٹ بول کر معذوری کا ڈرامہ کیا، یا پھر اگر وہ واقعی بول نہیں سکتی تھیں تو اب ان کی حالت میں واضح بہتری آ چکی ہے۔"
اب اس خاتون پر ایک اور مقدمہ چلے گا جس میں طے کیا جائے گا کہ انہیں کتنی رقم واپس کرنی ہو گی، اور انشورنس کمپنی بھی مقدمہ کر کے 16 سال کی پنشن کی رقم واپس مانگ سکتی ہے۔