ویب ڈیسک: اقوام متحدہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ایک خود مختار خاتون نمائندہ پر اسرائیل پر تنقید کی پاداش میں عائد کی گئی "ناقابل قبول" پابندیوں کو مسترد کر دیا اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کےمطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے جمعرات کے روز نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے انسانی حقوق کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کے خلاف اٹھایا گیا یہ اقدام "ایک خطرناک نظیر" قائم کرتا ہے۔
اگرچہ رکن ممالک کو آزاد ماہرین کی رپورٹوں سے اختلاف کا حق حاصل ہے، تاہم ایسے اختلافات کو اقوام متحدہ کے دائرہ کار میں حل کیا جانا چاہیے، "کسی بھی خصوصی نمائندے یا اقوام متحدہ کے کسی ماہر یا اہل کار پر یک طرفہ پابندیاں عائد کرنا ناقابل قبول ہے۔"
ترجمان نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کی اطالوی ماہر فرانسسکا البانیز کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے مقرر کیا ہے، اور ان کے کام پر سیکریٹری جنرل کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے فرانسسکا البانیز پر پابندیاں عائد کیں، جو اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی آزاد نمائندہ مقرر ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ان پر جانب داری اور یہود دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ البانیز نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سے رابطہ کر کے امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات یا گرفتاری کی ترغیب دی، جب کہ دونوں ملکوں کو اطلاع نہیں دی گئی۔