(ویب ڈیسک ) چینی حکام نے ایک تاریخی شیکومن طرز کے محلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چند سو میٹر دور منتقل کر دیا۔ اس منصوبے میں 432 ہائیڈرالک روبوٹس استعمال کیے گئے جو روزانہ 10 میٹر کی رفتار سے اس پورے بلاک کو منتقل کرتے رہے۔
یہ تاریخی محلہ "ہوایانلی کمپلیکس" شنگھائی کے ضلع جِنگ آن میں واقع ہے، جو 1920 اور 1930 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ محلے کی تنگ گلیوں اور پرانی تعمیرات کے باعث روایتی طریقوں سے اسے منتقل کرنا ممکن نہ تھا، لیکن زیر زمین تین منزلہ ڈھانچہ بنانے کے لیے اسے عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری تھا۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال:
منصوبے سے پہلے ماہرین نے تھری ڈی بلیو پرنٹس بنانے کے لیے جدید اسکیننگ ٹیکنالوجی اور بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ کا استعمال کیا۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز اور روبوٹس کی مدد سے زمین کھودی گئی۔ ان روبوٹس کو یہ صلاحیت دی گئی تھی کہ وہ مٹی اور سخت رکاوٹوں کے درمیان فرق کر سکیں، تاکہ کسی بھی تاریخی حصے کو نقصان نہ پہنچے۔
جیسے ہی زمین کھود لی گئی، پورے محلے کو ایک اسٹیل فریم پر رکھ دیا گیا اور ہائیڈرالک روبوٹس کی مدد سے آہستہ آہستہ منتقل کیا گیا۔ یہ روبوٹس ریموٹ کنٹرول سے چلائے جاتے ہیں اور تنگ جگہوں میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ اپنی نوعیت کا چین کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف حجم میں بلکہ تکنیکی پیچیدگی کے لحاظ سے بھی منفرد ہے۔ یہ تاریخی بلاک تقریباً 7,500 میٹرک ٹن وزنی اور 4,030 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔
اس منصوبے کا آغاز 19 مئی کو ہوا، اور جیسے ہی زیر زمین منصوبہ مکمل ہوگا، یہ محلہ دوبارہ اپنی اصل جگہ پر واپس منتقل کر دیا جائے گا۔ زیر زمین منصوبے میں تجارتی اور ثقافتی مراکز، 100 سے زائد پارکنگ مقامات، اور میٹرو لائن 2، 12 اور 13 کو آپس میں جوڑنے کے انتظامات شامل ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب چین میں کسی عمارت کو منتقل کیا گیا ہو، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر اس قسم کا یہ سب سے متاثر کن منصوبہ مانا جا رہا ہے۔