ویب ڈیسک: تنظیموں کی جانب سے نوجوا ن لڑکیو ں کی ذہن سازی کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا۔ تربت کی رہائشی خیر النساء نے اعترا ف کیا کہ بی ایل ا ے نے دھمکی ا ور بلیک میل کر کے خودکش حملے پر مجبور کیا۔ کزن نے باپ کو قتل کی دھمکی دے کر تنظیم کے لیے کام کروایا۔
خیر النساء نے مزید بتایا کہ مجھے دو مرتبہ آنکھوں پر پٹی باند ھ کر پہاڑوں میں سرمچاروں سے ملوایا گیا، شدت پسندوں نے دو سری خوا تین خودکش حملہ آوروں کی مثالیں دے کر میری ذہن سازی کی۔
میں غریب گھرانے سے ہوں، والد ڈرائیور ہیں، خاندا ن کو نقصان کے خوف سے خاموش رہی، حقیقت بعد میں معلوم ہوئی۔ حب چوکی میں علاج کے دورا ن بھی خودکش حملے کے لیے ہدایات ملتی رہیں، کزن کی گرفتاری کے بعد خوف کے باعث موبا ئل فون توڑ دیا تھا۔
خیر النساء نے کہا کہ پولیس نے حراست میں لے کر محفوظ مقام پر ر کھا ا ور عزت سے پیش آیا گیا۔ میں خودکش حملہ نہیں کرنا چاہتی تھی، مجھے ڈرایا ا ور بلیک میل کیا گیا۔ میری بہنیں ایسی تنظیموں کا ساتھ نہ دیں، یہ راستہ غلط ہے۔ میرا خواب ڈاکٹر یا استانی بننا ہے، میں صرف تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ خودکش حملے سے بچ جانا اللہ کا شکر ہے، مجھے زبردستی اس طرف دھکیلا جا رہا تھا۔