(ویب ڈیسک) ترقی یافتہ ملکوں میں رہائش ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے، ایک اہم یورپی ملک اسپین میں رہنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خبر آگئی ہے۔
یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل اسپین نے اپنی معروف “ گولڈن ویزا” اسکیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی شہری کم از کم پانچ لاکھ یورو کی جائیداد خرید کر وہاں رہائش حاصل کر سکتے تھے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین مسلسل ان پروگراموں پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، جن کے ذریعے سرمایہ کاری کے بدلے رہائش یا شہریت دی جاتی رہی ہے۔ نئی قانون سازی کے بعد اب غیر ملکیوں کے لیے پراپرٹی خرید کر اسپین میں رہنے کا راستہ بند ہو جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کی بڑی وجہ بڑے شہروں، خاص طور پر بارسلونا اور میڈرڈ میں بڑھتا ہوا ہاؤسنگ بحران ہے۔ ان شہروں میں جائیداد کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مقامی افراد کے لیے گھر خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بیرونی سرمایہ کاری نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اگرچہ اس اسکیم کا خاتمہ کیا جا رہا ہے، لیکن اسپین نے غیر ملکیوں کے لیے دیگر مواقع کھلے رکھے ہیں۔ اب توجہ ان افراد پر مرکوز ہے جو معیشت میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل نومیڈ ویزا، ماہرین کے لیے خصوصی پروگرامز، اور کاروباری افراد کے لیے انٹرپرینیور ویزا جیسے متبادل راستے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ نان لوکریٹو ویزا بھی ایسے لوگوں کے لیے دستیاب ہے جو مالی طور پر خود کفیل ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے پراپرٹی مارکیٹ میں غیر ضروری اضافے کو قابو کیا جا سکے گا اور مقامی آبادی کے لیے رہائش کے مواقع بہتر ہوں گے۔ ساتھ ہی یہ پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسپین اب ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے جو معیشت میں دیرپا اور حقیقی بہتری لا سکے۔