ویب ڈیسک: اردن کے شاہ عبداللہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ٹرمپ نے کہا ہم غزہ کو بہت صحیح طریقے سے چلائیں گے، ہم اسے خریدنے نہیں جا رہے ہیں، صرف انتظام سنبھالیں گے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن کے شاہ عبداللہ کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ جنگ بندی پر تبادلہ ہوا۔
ٹرمپ نے کہا ہم غزہ کو بہت صحیح طریقے سے چلائیں گے، ہم اسے خریدنے نہیں جا رہے ہیں، صرف انتظام سنبھالیں گے، فلسطینی کسی اور جگہ محفوظ طریقے سے رہیں گے جو غزہ میں نہیں ہے، مجھے 99 فیصد یقین ہے کہ ہم مصر کے ساتھ بھی ملکر کام کر سکیں گے، اردن اور مصر پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں لیں، فلسطینیوں کو غزہ واپسی کا حق نہیں ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ کو امریکی انتظامیہ کے ماتحت لیں گے،اسرائیل سے مغربی کنارے کا الحاق بھی ہوگا، اردن اور مصر میں کچھ جگہ فلسطینی رہ سکتے ہیں، یقین نہیں حماس یرغمالیوں کی رہائی کیلئے ہفتے کی ڈیڈ لائن پر پورا اترے گی۔
اردن کے شاہ عبداللہ کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات
دوسری جانب شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور خوشحالی کے خواہاں ہیں، ٹرمپ کی حمایت ان ہی مقاصد کے حصول کیلئے کریں گے، ہمیں وہ کرنا ہے جو ہمارے اور سب کے مفاد میں ہو، ہمیں ابھی مصر کی طرف سے آنے والے منصوبے کا انتظار کرنا چاہیے۔
امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ سے ملاقات میں غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا، دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کا حصول ہی علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کا راستہ ہے۔
شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ امن پسند ہیں انہوں نے غزہ جنگ بندی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ غزہ جنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے امریکا اور اسٹیک ہولڈرز کی طرف دیکھتے ہیں۔
اردن کے شاہ کافلسطینیوں کو غزہ سےنکالنے کےٹرمپ کےمنصوبے پر غور
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کے 2,000 شدید بیمار یا کینسر میں مبتلا بچوں کو اپنے ملک میں علاج کے لیے قبول کریں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو "خوبصورت اقدام" قرار دیا اور کہا کہ انہیں "99٪ یقین" ہے کہ مصر کے ساتھ بھی کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ مصر نے پہلے ٹرمپ کے اس غیر متوقع منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا، "کچھ اور ممالک بھی مدد کریں گے۔"
اس سے قبل اردن کے شاہ عبداللہ سمیت دیگر ممالک نے ٹرمپ کے فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے کی مذمت کی تھی.
ٹرمپ کےتجویز کردہ منصوبے،فلسطینیوں میں بے دخلی کے خدشات
صدر ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے نے فلسطینیوں میں غزہ سے بے دخلی کے خدشات کو ایک مرتبہ پھر جنم دیا ہے، اور ان عرب ریاستوں میں بھی تشویش پیدا ہو گئی ہے جن کے خیال میں ایسے کسی بھی اخراج سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
فلسطینیوں کو ہمیشہ سے یہ خوف رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنی سرزمین سے زبردستی بےدخل کر دیا جائے گا جیسا کہ 1948 میں کیا گیا تھا جب 7 لاکھ فلسطینی بےگھر ہو گئے تھے اور اس دن کو نکبہ یعنی بڑی تباہی کا دن قرار دیا جاتا ہے۔
زبردستی اپنے گھروں سے نکالے گئے فلسطینیوں نے ہمسایہ عرب ممالک اردن، شام اور لبنان میں پناہ لی تھی۔
1948 میں ہجرت کرنے والے فلسطینی مہاجرین کہاں گئے؟
1948 میں ہجرت کرنے والے فلسطینی مہاجرین میں سے آج بھی 56 لاکھ اردن، لبنان، شام اور اسرائیلی زیر قبضہ مغربی کنارے اور غزہ میں رہائش پذیر ہیں۔
فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق رجسٹرڈ مہاجرین میں سے نصف ابھی تک مہاجر کیمپوں میں ہی رہ پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کی تقریباً 20 لاکھ غزہ کے فلسطینیوں کو آباد کرنے کی تجویز اردن کے لیے کسی خوفناک منصوبے سے کم نہیں ہے جو پہلے ہی فلسطینیوں کے غزہ اور مغربی کنارے سے انخلا پر خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔
فلسطینیوں کیلئےسیاہ ستمبر کی یاد تازہ
یہ خدشات اردن کے لیے ’سیاہ ستمبر‘ کی یاد کو بھی تازہ کرتے ہیں جب 1970 میں اردن کی فوج نے فلسطینی لبریشن آرگنائیزیشن کے زیرِ قبضہ علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔
شاہ حسین نے فلسطینی گروپس کے اردن میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خوف سے فلسطینی قوم پرستوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا۔ اردن کے جنرلز کے احکامات پر دارالحکومت امان میں ٹینک لا کر کھڑے کر دیے تھے۔ اس آپریشن میں تقریباً 3 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جبکہ تقریباً 20 ہزار کو اردن چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔
غزہ کی 85 فیصد آبادی بے گھر
سال 2023 میں شروع ہونے والی جنگ اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کئی مرتبہ فلسطینی اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ 48 ہزار غزہ میں مارے جا چکے ہیں۔
2023 میں آپریشن کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے شمالی غزہ کے فلسطینیوں کو شہر کے قدرے محفوظ جنوبی حصے کی جانب نقل مکانی کرنے کو کہا تھا۔ لیکن جیسے جیسے آپریشن کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا تو فسطینیوں کو مصر کی سرحد کے ساتھ رفح کی طرف منتقل ہونے کو کہا گیا۔
اس کے بعد رفح میں بھی آپریشن شروع ہو گیا اور فلسطینیوں کو نئے نامزد کردہ انسانی ہمدری کے زون ’المواسی‘ منتقل ہونے کو کہا۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں غزہ کی 85 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
غزہ میں اکثریت کا کہنا ہے کہ موقع ملنے پر بھی وہ اپنا شہر اس خدشے کے پیش نظر نہیں چھوڑیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ 1948 کی طرح وہ اپنی سرزمین پر دوبارہ کبھی واپس نہ آ سکیں۔