امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی اور کہا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔

امریکی صدر ڈونلڈ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں نے تجارت کے ذریعے پاک بھارت جنگ روکی، پاکستان اور بھارت نے میری بات کو سمجھا، دونوں ملکوں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے کوئی بات نہیں کررہا تھا لیکن یہ بڑا کام تھا۔‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ شروع ہونے والی تھی، پاکستان اور بھارت کی قدر کرتا ہوں، دونوں ملکوں سے کہا کہ اگر جنگ کرو گے تو تجارت نہیں ہوگی، پاکستانی وفد آئندہ ہفتے تجارت پر گفتگو کرنے امریکا آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ روکنے پر فخر ہے، دونوں ملکوں کے پاس خطرناک تعداد میں جوہری ہتھیار ہیں، میرے خیال میں جنگ روکنے پر پوری ری پبلک پارٹی کو کریڈٹ دینا چاہیے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصہ سے دشمنی چلی آ رہی ہے۔ اس لیے میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد بار پاک بھارت حالیہ جنگ رکوانے کا کریڈٹ خود کو دے چکے ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بہت قریب تھے، اب بھی ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات کم ہیں،ایران کو خوشحال کرنے میں مدد کریں گے۔

Watch Live Public News