(ویب ڈیسک ) لیبیا کشتی حادثے 2023 میں ملوث ریڈ بک کے انتہائی مطلوب انسانی سمگلر سمیت 2 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے فیصل آباد زون کی بڑی کاروائیاں، لیبیا کشتی حادثے 2023 میں ملوث ریڈ بک کے انتہائی مطلوب انسانی سمگلر سمیت 2 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ ملزمان کی شناخت عطاء اللہ اور سعید عثمان کے نام سے ہوئی ۔
ترجمان کے مطابق ملزمان کو سرگودھا اور سیالکوٹ سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزم عطاء اللہ سادہ لوح شہریوں کو سمندر کے راستے یورپ بھجوانے میں ملوث پایا گیا ۔ گرفتار ملزم ریڈ بک کا مطلوب انسانی سمگلر اور لیبیا کشتی حادثہ 2023 کا اہم ملزم ہے۔ملزم کا نام انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز کی ریڈ بک میں شامل ہے ۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم نے 2 شہریوں کو اٹلی بھجوانے کی غرض سے 45 لاکھ روپے بٹورے۔ ملزم نے شہریوں کو کشتی کے ذریعے لیبیا سے اٹلی بھجوایا ۔ یورپ سفر کے دوران کشتی کو حادثہ پیش آ گیا جس میں ملزم کی جانب سے بھجوائے گئے ایک شہری کی موت واقع ہوئی۔
ترجمان کے مطابق ملزم سعید عثمان نے شہری کو اٹلی بھجوانے کے نام پر 26 لاکھ روپے ہتھیائے۔گرفتار ملزم نے پہلے شہری کو لیبیا بھجوایا۔متاثرہ شہری لیبیا سے تاحال لاپتہ ہے۔ مذکورہ مقدمے میں اس سے قبل بھی 2 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے فیصل آبادزون سرفراز خان ورک کا کہنا ہے کہ کشتی حادثات میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے ، گرفتار انسانی سمگلروں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دلوائی جائیں گی، بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جائے گا۔