(ویب ڈیسک ) جعفر ایکسپریس ٹرین کے ڈرائیور امجد یاسین کے خاندان کے لیے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انھیں کسی بڑے حادثے کی خبر ملی ہو۔ اس سے قبل بھی امجد یاسین کی ٹرین ایسے ہی ایک بڑے حملے کی زد میں آ چکی ہے۔
امجد یاسین کے بھائی عامر یاسین نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
امجد یاسین کون تھے؟
عامر یاسین کے مطابق ان کے والد قیام پاکستان کے بعد انڈین پنجاب سے پاکستان آئے اور پھر 1958 میں ملازمت کے سلسلے میں کوئٹہ آ گئے۔
عامر یاسین نے بتایا کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ امجد حسین منجلے تھے۔ وہ 50 برس قبل کوئٹہ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔
عامر یاسین کے مطابق امجد یاسین تعلیم میں بہت اچھے تھے۔ انھوں نے گریجوایشن تک تعلیم کوئٹہ سے ہی حاصل کی اور پھر ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
عامر کے مطابق ہم نے امجد کی اہلیہ جو دمے کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی بیٹی کو اپنے رشتہ داروں کے پاس پنجاب بھیج دیا ہے تا کہ رشتہ دار ان کا غم بانٹ سکیں۔ ان کے مطابق ابھی بھی ہمیں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں کہ امجد حسین زندہ ہیں یا نہیں۔
عامر یاسین نے کہا کہ ’میں نے اپنی بھابھی اور بھتیجی کو بتایا کہ ابھی ہمیں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے اور جو بھی تفصیلات آئیں گی ہم آپ کو بتا دیں گے۔‘
عامر یاسین کے مطابق جب 2007 کے بعد بلوچستان کے حالات خراب ہوئے تو امجد حسین کے ساتھ ایسا ہی واقع ان دنوں میں بھی پیش آیا تھا۔
ان کے مطابق اس وقت امجد یاسین اسسٹنٹ ڈرائیور تھے اور ان کی ٹرین اسی علاقے کے قریب سے گزر رہی تھی جب اس ٹرین پر راکٹ لانچر سے حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد دھماکہ ہوا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔ عامر کے مطابق امجد یاسین اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
عامر یاسین کے مطابق جب ہم سب نے امجد بھائی سے یہ ملازمت چھوڑ کر واپس جانے کی بات کی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘
عامر یاسین کے مطابق ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے۔
جب گھر سے نکلتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہمارے پاس ہونا کیا ہے۔ ہم گھر سے نکلنے کے اوقات بھی بدلتے رہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا کوئٹہ چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا ہے۔ ساری زندگی یہاں گزاری ہے۔ یہاں کاروبار کیا ہے۔ ہم بس یہ پوچھتے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟