(ویب ڈیسک ) سابق کپتان بابر اعظم کےخلاف ایڈیشنل سیشن جج کا اندراج مقدمہ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف درخواست منظور کرلی۔
جسٹس اسجد جاوید گھرال نے سابق کپتان کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کی۔ بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت نے دلائل دئیے۔وفاقی حکومت ، پنجاب حکومت ، اور خاتون حمیزہ مختار کے وکلاء پیش ہوئے۔
بیرسٹر حارث عظمت نے کہا کہدرخواست گزار خاتون نے پہلے بھی 2018 میں بے بنیاد درخواست دی ، کرکٹر بابر اعظم دو ہزار اٹھارہ سے بیس تک کرکٹ کے میدان میں بے پناء شہرت ملی ،خاتون نے کرکٹر بابر اعظم کو پندرہ کروڑ روپے ہرجانہ کا نوٹس بھجوایا ، خاتون نے بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔
وکیل نے کہا کہ خاتون نے نوٹس بھجواتے ہوئے پندرہ کروڑ طلب کیا بصورت دیگر دوبارہ کیس کرنے کی وارننگ دی ، بابر اعظم کے انکار پر خاتون نے دوبارہ جسٹس آف پیس کے پاس اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی ،جسٹس آف پیس ، ایڈیشنل سیشن جج نے کرکٹر بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم دیا ،جسٹس آف پیس ، ایڈیشنل سیشن جج کا اندراج مقدمہ کا آرڈر قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت جسٹس آف پیس ، ایڈیشنل سیشن جج کا اندراج مقدمہ کا آرڈر کالعدم قرار دے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹنٹ اٹارنی جنرل زاہد عزیز بھٹہ پیش ہوئ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خالدہ پروین پیش ہوئیں۔
وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے لاء افسران نے بابر اعظم کی درخواست کی مخالفت کی۔خاتون حمیزہ مختار کے وکیل نے بھی کرکٹر بابر اعظم کی درخواست کی مخالفت کی تاہم سرکاری وکلاء اور خاتون حمیزہ مختار کے وکلاء عدالت کو مطمئن نہ کرسکے ۔
خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ،جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر 2021میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔