(ویب ڈیسک) وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے بعد دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’ ڈیل‘ (Dell) کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ڈیل کی اہلیہ اور معروف مخیر شخصیت سوزن ڈیل (Susan Dell) اپنے غیر معمولی ظاہری تاثرات کے باعث سوشل میڈیا پر شدید بحث اور توجہ کا مرکز بن گئیں۔
سوزن ڈیل 7 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں اپنے ارب پتی شوہر مائیکل ڈیل کے ہمراہ موجود تھیں، جہاں امریکی حکومت کے ایک نئے پروگرام ’ٹرمپ اکاؤنٹس‘ کو اجاگر کرنے کے لیے تقریب منعقد کی گئی تھی۔
اس پروگرام کا مقصد بچوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کھاتے قائم کرنا ہے، جس کے تحت 2025ء سے 2028ء کے درمیان پیدا ہونے والے اہل امریکی بچوں کے اکاؤنٹس میں حکومت کی جانب سے ایک ہزار ڈالرز کی ابتدائی رقم جمع کرائی جائے گی۔
مائیکل ڈیل اور سوزن ڈیل نے اس قومی فلاحی منصوبے کی بھرپور معاونت کے لیے اربوں ڈالرز کے نجی فنڈز فراہم کرنے کا باضابطہ عہد کیا ہے۔
اوول آفس سے تقریب کی تصاویر اور ویڈیو کلپس وائرل ہوتے ہی انٹرنیٹ صارفین کی توجہ اربوں ڈالرز کے خیراتی منصوبے کے بجائے سوزن ڈیل کی ظاہری ہیئت اور چہرے کے تاثرات پر مرکوز ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے بیٹھنے کے انداز، ہاتھوں کی حرکات, چہرے کے کھچے ہوئے تاثرات پر طرح طرح کے تبصرے شروع کر دیے۔
متعدد صارفین نے قیاس آرائیاں کیں کہ سوزن ڈیل نے ممکنہ طور پر حالیہ دنوں میں کوئی بڑی کاسمیٹک سرجری یا چہرے کے حسن میں اضافے کے لیے مصنوعی طریقہ علاج کروایا ہے، جس کی وجہ سے ان کے چہرے کے قدرتی تاثرات جمے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
بحث کے دوران صارفین نے سوشل میڈیا پر ’مار اے لاگو فیس‘ (Mar-a-Lago Face) کی اصطلاح کا بھی کثرت سے استعمال کیا—یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سیاسی و اشرافیہ حلقوں سے وابستہ ان شخصیات کے لیے بولی جاتی ہے جن کے چہرے پلاسٹک سرجری یا بوٹوکس کے زیادہ استعمال کے باعث غیر قدرتی اور حد سے زیادہ مصنوعی لگتے ہیں۔
سوزن ڈیل کے چہرے میں نمایاں تبدیلیوں اور غیر معمولی حد تک وزن کم ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں نئی نہیں ہیں، بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی ظاہری حالت اور طبی کیفیت کے حوالے سے چہ مگوئیاں کی جا رہی تھیں۔