ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اعجاز چوہدری کی جیل میں طبیعت اچانک خراب ہو جانے پر انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
وکیل رانا مدثر ایڈووکیٹ کے مطابق اعجاز چوہدری کے گردوں میں شدید انفیکشن تشخیص ہوا ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید تکلیف کا سامنا ہے۔ مزید برآں، میڈیکل معائنے میں ان کے پتے میں سات پتھریاں بھی پائی گئی ہیں۔
جیل حکام نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں لاہور کے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) منتقل کیا، جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ جاری ہیں۔ وکیل کے مطابق، جیل میں قید کے دوران اعجاز چوہدری کا وزن اب تک 22 کلوگرام کم ہو چکا ہے، جو ان کی صحت میں تیزی سے بگاڑ کا واضح ثبوت ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ 22 جولائی کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شیرپاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس میں اعجاز چوہدری سمیت ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ شاہ محمود قریشی اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، اعجاز چوہدری کی صحت کی بگڑتی صورتحال پر پی ٹی آئی قیادت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سنگین خطرے سے بچا جا سکے۔