دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کی تاریخ کےاہم معرکہ چُمک آپریشن کو37 سال مکمل

دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کی تاریخ کےاہم معرکہ چُمک آپریشن کو37 سال مکمل

(ویب ڈیسک) سیاچن کی تاریخ کے اہم معرکہ آپریشن چُمک میں پاکستانی فوج کے بہادر بیٹے نے تاریخ رقم کر دی ۔

1989 کے اوائل میں بھارتی فوج نے سیاچن کی اہم ترین بلند اسٹریٹجک چوٹیوں پر قبضہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ سخت موسمی حالات میں اپریل 1989 کولیفٹیننٹ نوید الرحمن کو ہیلی کاپٹرسلنگ کیساتھ 25 ہزارفٹ کی بلندی پراتارا گیا۔

پاک فوج کے بہادرافسر نے محض ایک سپاہی کے ہمراہ دشمن کی مذموم سازش کو ناکام بنا دیا۔13 مئی1989 کو بھارت نے شکست تسلیم کرتےہوئےجنگ بندی کی درخواست کی جسکے بعدبھارتی فوج سابقہ جگہ پر واپس چلی گئی  ۔

پاک فوج کے بہادرسپوت میجر(ر) نویدالرحمان(ستارہ جرأت) کا کہنا تھا کہمیں نے دنیا کی سب سے بلند پوسٹ21 ہزار 400 کی بلندی پر قائم کی۔ چُمک آپریشن کے لیے میں نے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا، چُمک آپریشن میں انتہائی سخت ترین حالات کے دوران ازلی دشمن بھارت کا مرادنہ وار مقابلہ کیا،۔

لیفٹنٹ جنرل(ر) ایاز احمد نے کہا کہپاک فوج نے بہترین حکمت عملی کے باعث مشکل ترین برفانی محاذ پر بھارت کو سیز فائر کی درخواست پر مجبور کر دیا۔

میجر جنرل (ر) محمد فاروق ملک ہلال امتیاز ملٹری کا کہنا تھا کہ بطور پلاٹون کمانڈر میں نے میجر نوید میں لڑنے کا جذبہ دیکھا جس کا چمک آپریشن میں عملی مظاہرہ میرے لیے باعث فخر ہے۔

غازیانِ چُمک آپریشن کو بے مثال بہادری کے اعتراف میں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔مادرِ وطن کے بہادر سپوت آج بھی اس بلند ترین جنگی محاذ پر سبز ہلالی پرچم کی سربلندی اور دفاعِ وطن کے مقدس فریضے میں مصروفِ عمل ہیں۔

Watch Live Public News