ویب ڈیسک: منی پور میں بحران نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 7اپریل 2026 کو بِشْنُوپُر ضلع کے ترونگلاوبی میں ایک گھر پر راکٹ حملہ ہوا۔ جس کے نتیجہ میں دو معصوم بچے (5 سال کا لڑکا اور 6 ماہ کی بچی) سوئے ہوئے حالت میں مارے گئے، والدہ شدید زخمی ہیں۔اس واقعے کے بعد سینکڑوں غم و غصے میں مبتلا عوام نے قریبی سی آر پی ایف کیمپ پر احتجاج کیا۔مظاہرین نے گاڑیاں اور ٹرک نذرِ آتش کر دیے۔لیکن مودی کی سیکورٹی فورسز نے بے گناہ عوام پر فائرنگ کر دی۔بھارتی فورسسز کی فائرنگ سے 5 مزید ہلاکتیں، 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، بھیڑ نے پرامن احتجاج کیا، لیکن بھارتی فورسز نے نہتے مظاہرین پربلا جھجھک فائرنگ کی۔نتیجتاً مظاہرین نے سی آر پی ایف کیمپ کی گاڑیاں جلا دیں۔
مودی حکومت کی ناکامی کے اعداد و شمار:
مئی 2023 سے اب تک: 260 سےزائد سرکاری ہلاکتیں ہوچکی ہیں تاہم کچھ ذرائع یہ تعداد 500 سے زائد بتا رہے ہیں۔اس کے علاوہ 60 ہزار سے زائد لوگ بےگھر ہوکر ریلیف کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں گھر اور 386 سے زائد عبادت گاہیں بھی جلائی جاچکی ہیں۔ فسادات کے نتیجہ میں 1100 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
منی پور میں تین سالہ بحران:
تین سال گزر گئے، مودی اور ان کی بی جے پی حکومت منی پور کو قابو نہیں کر سکی۔ برین سنگھ کی حکومت نے منی پور میں ایک برادری کو دوسری کے خلاف کھڑا کیا۔ پولیس آرمری لوٹی گئی، ہتھیار عام ہو گئے اور اب بھی کرفیو، انٹرنیٹ بند، NIA کی نام نہادتحقیقات جاری ہے۔ منی پور میں امن کا نام و نشان نہیں۔ مودی حکومت کی مرکزی ناکامی ہے جو شمال مشرق کو نظر انداز کر رہی ہے۔
منی پور میں ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں:
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین (ستمبر 2023) نے منی پور میں extrajudicial killings، جنسی تشدد، گھروں کی تباہی، جبری نقل مکانی اور تشدد کی متعدد رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ہیومن رائٹس واچ (ورلڈ رپورٹ 2024) میں بھارتی فورسز کے ذریعہ جاری extrajudicial killings اور بے گناہوں کو "encounter" کے نام پر قتل کرنے کی تفصیلات درج کی گئیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2024-2025 رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دو سال میں 260 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، مگر کسی کو بھی سزا نہیں دی گئی۔
منی پور میں لاپتہ افراد:
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 60,000 سے زائد افراد ریلیف کیمپوں میں بے گھر ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔32 سے 28 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کے خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، مگر حکومت خاموش ہے۔ عالمی برادری کو سمجھنا چاہیے منی پور کی صورتحال میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ عوام سڑکوں پر ہیں، فوج کے کیمپ نشانے پر ہیں، ٹرک جل رہے ہیں – اور دہلی خاموش! مودی حکومت کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے تاکہ منی پور میں ہونے والے مظالم کا خاتمہ کیا جا سکے۔
منی پور میں امن کا نام و نشان نہیں۔عالمی ادارے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ منی پور کی صورتحال کو نظرانداز کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والی حکومت کی ناکامی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ اور مطالبات: