ویب ڈیسک: پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کے اہم دور کل ہوگا ، پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے 13 جبکہ وفاقی حکومت کے پانچ ممبران شامل ہوں گے ۔
وفاقی وزیر مواصلات،وزیر مملکت برائے خزانہ،سیکرٹری مواصلات،آئی جی موٹروے اور ممبر کسٹم شامل ہوں گے ، پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اپنے مطالبات باقی حکومت کے سامنے رکھے گی،گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کل شام چار بجے ہوں گے۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے مذاکرات کے لیے مطالبات تیار کرلئے، مطالبات میں کہا گیا کہ 10 ویلر گاڑیوں کو 45 اور 22 ویلر گاڑیوں کو 90 ٹن وزن دیا جائے،محکمہ کسٹم سے گاڑی ضبطگی کا اختیار فوری طور پر واپس لیا جائے۔
موٹروے پر بھاری جرمانوں،گالم گلوچ،اور کانٹوں پر رشوت خوری کو فوری ختم کیا جائے،موٹروے پر ڈرائیورز کے مطلوبہ لائسنس کا فوری اجرا کیا جائے،کراچی میں موجود پورٹس پر ہیوی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے ایریا الاٹ کیا جائے۔
نادرن بائی پاس منصوبے کو توسیع دے کر سکیورٹی فراہم کی جائے، پنجاب بھر کہ تمام بڑے شہروں میں ٹرک اسٹینڈ الاٹ کیے جائیں،افغان بارڈرز پر روکے گئے تمام ٹرک اور ٹرائلرز کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے۔
