آزاد جموں و کشمیر کی غیور عوام نے شرپسندوں کے انتشاری ایجنڈے کو مسترد کر دیا ، سیکرٹری داخلہ گفتار حسین

آزاد جموں و کشمیر کی غیور عوام نے شرپسندوں کے انتشاری ایجنڈے کو مسترد کر دیا ، سیکرٹری داخلہ گفتار حسین

(ویب ڈیسک) سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر چوہدری گفتار حسین  کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے ہر قسم کی بلیک میلنگ، دھونس اور انتشار کا قانون کے مطابق جواب دینے کے لیے مکمل متحرک ہیں۔ کالعدم تنظیم کے سرغنہ خواجہ مہران نے آزاد کشمیر کے انٹری پوائنٹس بند کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔  ڈیڈ لائن دینے کا یہ گھناؤنا حربہ نیا نہیں، ماضی میں بھی ایسی تمام دھمکیاں ناکام ثابت ہوئیں۔

سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر چوہدری گفتار حسین نے موجودہ صورتحال پر پریس کانفرنس میں کہا کہ  کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ 38 دنوں سے آزاد کشمیر کا امن اور معمولاتِ زندگی سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے۔ حقوق کے نام پر احتجاج کا لبادہ اوڑھ کر دھونس، بلیک میلنگ اور پروپیگنڈے کی سیاست کو مستقل ہتھیار بنایا گیا۔  اس تنظیم کا اصل مقصد پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کے تاریخی رشتے کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تاجروں کو دھمکیاں دے کر زبردستی بازار بند کروانا اور شہریوں کی زندگی اجیرن بنانا اس تنظیم کا وتیرہ بن چکا ہے۔   طلباء، خواتین اور بچوں کا بطورِ انسانی ڈھال استعمال کیا جا رہا ہے۔   طلباء کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں زبردستی احتجاجی اور انتشاری سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ   آزاد جموں و کشمیر کی غیور عوام نے شرپسندوں کے انتشاری ایجنڈے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال اور تمام تعلیمی ادارے دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ریاستی ادارے ہر قسم کی بلیک میلنگ، دھونس اور انتشار کا قانون کے مطابق جواب دینے کے لیے مکمل متحرک ہیں۔ کالعدم تنظیم کے سرغنہ خواجہ مہران نے آزاد کشمیر کے انٹری پوائنٹس بند کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔  ڈیڈ لائن دینے کا یہ گھناؤنا حربہ نیا نہیں، ماضی میں بھی ایسی تمام دھمکیاں ناکام ثابت ہوئیں۔ 

سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ  آزاد کشمیر کی بھاری اکثریت کالعدم تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کر کے انتشاری ایجنڈا مسترد کر چکی ہے۔  کالعدم کمیٹی کے گزشتہ احتجاجوں کے باعث آزاد کشمیر کو پہلے ہی اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ علی الصبح متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ میں شرپسندوں نے معصوم شہریوں پر بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر فائرنگ رکوانا چاہی تو مسلح جتھوں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں اور بارود سے حملہ کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ  قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسلح عناصر کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔   پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کی نفری بھی راولاکوٹ میں موقع پر پہنچ چکی ہے۔ مسلح جتھے فورسز پر جدید ترین خودکار ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ خود ساختہ دھماکہ خیز مواد (Explosives) بھی استعمال کر رہے ہیں۔  تصادم کے دوران فرض کی راہ میں ریاست کا ایک فرض شناس جوان شہید اور ایک جوان زخمی ہو گیا۔اطلاعات کے مطابق قانون شکن اور سفاک مسلح جتھے کا ایک کارندہ بھی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو چکا ہے۔  جدید ترین ہتھیاروں اور بارود کا استعمال کالعدم کمیٹی کے نام نہاد "پرامن بیانیے" کی کھلی نفی ہے۔ 

سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ  یرغمال بنائی گئی عوام کو شرپسندوں سے نجات دلانے اور امن کی بحالی کے لیے آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔  اہم شاہراوں سمیت کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلوچ بازار کے مقام پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔  تمام دیگر شاہراوں کی مکمل کلیئرنس تک آپریشن جاری رہے گا۔ تاکہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنا کر خطہ میں مستقل امن قائم کیا جا سکے۔  روزمرہ کی اشیاء ضروریہ کی فراہمی کو مکمل یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی انتشاری گروہ کو عوام کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور صحت کو یرغمال بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ 

سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل گرتی ہوئی عوامی حمایت اور رہنماؤں کی لاتعلقی کے بعد نئی تشویشناک حکمتِ عملی پر اتر آئی۔ عوامی تائید کھونے کے بعد کمیٹی خواتین، معصوم بچوں اور طلبہ و طالبات کو احتجاج میں آگے لا کر انسانی ڈھال بنانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔معصوم بچوں اور طالبات کو احتجاجی سرگرمیوں میں آگے لانا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ ان کی جان و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ طلباء کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں احتجاجی سیاست کا ایندھن بنانا نئی نسل کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ سنگین صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم آزاد کشمیر نے راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ  تعلیمی اداروں  نے انتظامیہ کو طلبہ و طالبات کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی سخت ہدایت جاری کیں  ہیں ۔ دونوں محکموں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو والدین کو فوری طور پر صورتحال سے آگاہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ تعلیمی اداروں کو طلبہ و طالبات کی حاضری اور نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت جاری کی گئیں۔  کسی بھی طالب علم کو احتجاج یا دھرنے کا حصہ نہ بننے دینے کے لیے تعلیمی اداروں کو انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی گئی، احتجاج کے دوران یونیفارم میں ملبوس طلبہ و طالبات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کا شدید خدشہ ہے۔

سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ  ریاستی احکامات کی خلاف ورزی یا طلباء کے احتجاج میں ملوث پائے جانے پر متعلقہ ادارے اور انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ کیا گیا۔  سکیورٹی اور تعلیمی حکام کا واضح پیغام دیا گیا کہ طلبہ و طالبات کی جگہ درسگاہیں ہیں، احتجاجی دھرنے نہیں۔ راولاکوٹ کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے بیشتر اضلاع میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے تمام سرکاری و نجی ادارے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں میڈیکل کالجز سمیت متعدد تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے گئے۔ راولاکوٹ کے عوام بھی امن پسند ہیں اور اپنے شہر میں معمولاتِ زندگی کی مکمل بحالی کے خواہاں ہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ  راولاکوٹ میں کاروبار، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ مکمل بحال کرنے کے لیے انتشار پسند عناصر کو مسترد کر کے ریاست سے تعاون کریں۔

سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر نے مزید کہا کہ   آزاد جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں بشمول مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، لیپہ اور کیل میں بورڈ کلاسز کے سمر کیمپس کا 13 جولائی سے باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔سمر کیمپس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت آزاد کشمیر کی نئی نسل کا تعلیم اور مثبت سرگرمیوں پر اعتماد کا ثبوت ہے۔ والدین، اساتذہ اور عوام کی خواہش: بچوں کا مستقبل کتاب، قلم، تحقیق اور علم سے وابستہ ہو، نہ کہ احتجاج اور تصادم سے۔ بچے ہماری قوم کا مستقبل اور ریاست کے معمار ہیں، ان کے ہاتھوں میں قلم ہی جچتا ہے جو ریاست کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔انتباہ کیا گیا کہ نوجوان نسل کو تعلیم سے دور کر کے احتجاجی سیاست میں دھکیلنے کا نقصان صرف ایک طالب علم کو نہیں بلکہ پوری ریاست کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ  انتشاری کمیٹی اپنے مذموم مقاصد کے لیے بچوں کا مستقبل افراتفری اور انتشار انگیزی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ طلبہ و طالبات کو ہر صورت تعلیمی اداروں تک محدود رکھا جائے اور انہیں کسی بھی سیاسی یا انتشاری سرگرمی کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔ ان شاء اللہ بہت جلد آزاد جموں و کشمیر کا ہر شعبہ اور زندگی کے تمام معمولات مکمل طور پر بحال ہوں گے۔ حکومت اور ریاستی ادارے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور امن و استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاست بھر میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات جاری ہیں۔ حکومتی اقدامات کا مقصد ہر شہری کو بلا خوف و خطر معمول کی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ آزاد کشمیر کو ایک بار پھر اپنے پرامن تشخص کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ریاست اپنی تمام تر ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔

Watch Live Public News