اسد قیصر کا مستعفی ججز کو خراجِ تحسین، اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت تیز

اسد قیصر کا مستعفی ججز کو خراجِ تحسین، اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت تیز
کیپشن: اسد قیصر کا مستعفی ججز کو خراجِ تحسین، اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت تیز

ویب ڈیسک: پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کے استعفوں کو “قابلِ تحسین” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ججوں نے آئینی معاملات پر واضح مؤقف اختیار کیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا اور کہا کہ “ قانون میں ترمیم اس طرح ہوتی ہے؟ ایک بار ترمیم کر کے پھر کہنا کہ یہ ویسا نہیں، ایسا ہے؟” اسد قیصر نے وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “وہ عام طور پر اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے، لیکن کل اچانک آ گئے۔”

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق پارٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں آئندہ کے لائحہِ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور مزدور تنظیموں کو آئینی معاملات پر اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔

اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت

دوسری جانب محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پارلیمان کے اندر اور باہر آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی۔

’جمہوریت چلنی چاہیے‘ — بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں کے استعفے کے بعد صورتحال مزید سنجیدہ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق 26ویں اور 27ویں ترمیم میں نمایاں فرق ہے اور پی ٹی آئی ان ترامیم کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی پارلیمنٹ کے اندر بھی احتجاج جاری رکھے گی اور عدلیہ کی آزادی کی بحالی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

ججز کے خط پر حکومتی ردعمل

وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے کہا ہے کہ ججوں کا استعفیٰ دینا ان کا حق ہے، تاہم استعفے میں یہ کہنا کہ ترمیم عدلیہ پر حملہ ہے، “غیر آئینی الزام” ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور اس پر بے بنیاد اعتراضات مناسب نہیں۔

Watch Live Public News