ویب ڈیسک: کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی ایک خاتون گیارہ سال سے شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد بچوں سمیت سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ نادرا مسلسل ان کی درخواست مسترد کر رہا ہے اور عملہ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔
’نادرا والے میرا مذاق اڑاتے ہیں‘ — متاثرہ خاتون کا شکوہ
خاتون نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے نادرا دفتر کے چکر لگا رہی ہیں، لیکن شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین، بہنوں اور یہاں تک کہ ان سے چھوٹی بہن کا شناختی کارڈ بھی بن چکا ہے، مگر ان کا کارڈ نہیں بنایا جا رہا۔
نادرا کا اعتراض: ’دو بہنوں کی عمروں میں صرف 10 ماہ کا فرق کیسے؟‘
متاثرہ خاتون کے مطابق نادرا حکام کا مؤقف ہے کہ ان اور ان کی بہن کی عمروں میں 10 ماہ کا فرق قابلِ قبول نہیں، اسی وجہ سے کارڈ جاری نہیں ہو رہا۔
وکیل کا مؤقف: 7 ماہ کا عمر کا فرق بھی قانونی طور پر قابلِ قبول
خاتون کے وکیل عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کے اپنے قوانین کے مطابق کم از کم 7 ماہ عمر کے فرق کی صورت میں بھی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکتا ہے، لہٰذا 10 ماہ کے فرق کی بنیاد پر اعتراض غیرقانونی ہے۔
عدالت کا حکم
سندھ ہائیکورٹ نے نادرا حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔