قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد پیش

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد پیش
کیپشن: قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد پیش

ویب ڈیسک: قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد پیش کردی گئی۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قرارداد اور ایمرجنسی سے متعلق صدارتی فرمان ایوان میں پیش کیا، جس کے بعد وقفۂ سوالات معطل کردیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔ ان کے مطابق کابینہ میں ڈھائی گھنٹے کی مشاورت کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی گئی اور یہ فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بجائے اپنی سیاست کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کو نظرانداز کرکے وفاق پر چڑھائی کے اعلانات کیے گئے۔

وزیرِ قانون کے مطابق 2024ء تک دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ان کے بیان کے مطابق 15 اکتوبر 2025ء سے اب تک یہ تعداد 3,787 ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مطالبات سے مشروط کیا جاتا رہا۔

اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 10 روز کے اندر پارلیمان سے منظوری لینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہے اور غیرمعمولی حالات میں غیرمعمولی اقدامات ناگزیر ہوجاتے ہیں۔

Watch Live Public News