مسلمانوں کو پانی نہیں ملے گا: انڈیا میں مسلم بستی کی سپلائی بند،معاملہ اقوامِ متحدہ تک جا پہنچا، بی بی سی

مسلمانوں کو پانی نہیں ملے گا: انڈیا میں مسلم بستی کی سپلائی بند،معاملہ اقوامِ متحدہ تک جا پہنچا، بی بی سی

(ویب ڈیسک)دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت میں مسلمانوں کو پینے کے پانی   سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے مطابق بی جے پی حکومت نے انتخابی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی کی پانی کی سپلائی کاٹ دی ۔

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام  نے پانی کی فراہمی بحالی کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل  کردی۔

بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نےاعلان کیا کہ ووٹ نہ دینے پر مسلمانوں کے کام نہیں کیے جائیں گے۔ووٹ نہ دینے والوں کے خلاف حساب کتاب کا عمل آئندہ پانچ برسوں تک جاری رکھا جائے گا۔

رکن اسمبلی سمیر الاسلام کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں پہلی بار اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت کا یہ اقدام انتہائی تشویشناک ہے۔پینے کے پانی کی فراہمی بنیادی انسانی حق ہے اور اسے انتظامی مسئلہ نہ سمجھا جائے۔

بی بی سی کے مطابق  جیوتی نگر کالونی میں رہائش پذیر 5,000 غریب مسلمان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔رکن پارلیمان نے مقامی حکام ، حکومت اور ہائی کورٹ میں شنوائی نہ ہونے پر اقوام متحدہ کو خط لکھا۔مقامی رہائشی ایک کلومیٹر دور سے آلودہ پانی لانے پر مجبور ہیں ۔

مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ میونسپلٹی نے مرمت کے بہانے رات کے وقت پانی کی سپلائی بند کی جبکہ ملحقہ ہندو بستی میں پانی جاری ہے۔

کولکتہ کے سینئر صحافی سوبجیت باگجی کا  کہنا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف سیاست میں شدت آئی ہے۔سرکاری مشکلات اور انتقامی کارروائیوں کے خوف سے مسلمان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔

پینےکے   پانی جیسے بنیادی حق کو سیاسی اور مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھانا انسانی حقوق کے عالمی منشور کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ 2022میں بھی مدھیہ پردیش پرتشدد واقعات کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں کے بنیادی میونسپل کنکشن کاٹ دیے  گئے۔

اسی برس نئی دہلی سیاسی کشیدگی کے بعد مسلم آبادی والی بستیوں کی بجلی، پانی اور صفائی کی بنیادی سہولیات معطل کر دی گئیں۔

Watch Live Public News