بھارت: 636 سالہ شاہی مسجد پر بلڈوزرکارروائی، مودی حکومت کی مسلمانوں کی تاریخی شناخت مٹانے کی ایک اور مذموم کوشش

بھارت: 636 سالہ شاہی مسجد پر بلڈوزرکارروائی، مودی حکومت کی مسلمانوں کی تاریخی شناخت مٹانے کی ایک اور مذموم کوشش
کیپشن: بھارت: 636 سالہ شاہی مسجد پر بلڈوزرکارروائی، مودی حکومت کی مسلمانوں کی تاریخی شناخت مٹانے کی ایک اور مذموم کوشش

ویب ڈیسک:  بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 636 سال پرانی تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے خلاف مسلم برادری کا احتجاج جاری ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2028 کے سمہستھ کمبھ میلے کی تیاریوں کے سلسلے میں سڑک کو 15 میٹر چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت مسجد کے متاثرہ حصے کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے خلاف سینکڑوں افراد مسجد کے اندر اور باہر جمع ہوئے، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

مسجد انتظامیہ کے مطابق متاثرہ حصے میں نماز ہال، تقریباً 120 فٹ بلند مینار اور مزار چوک شاہی شامل ہیں۔ شاہی مسجد وقف جائیداد کا حصہ ہے۔

مسلم برادری نے سوال اٹھایا ہے کہ سڑک کی توسیع کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنے کے بجائے تاریخی مسجد کے حصے کو ہی کیوں ہٹایا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ صدیوں پرانی مذہبی اور تاریخی عمارت کے تحفظ کے لیے متبادل انتظام کیا جا سکتا تھا۔

اجین میں پیش آنے والا یہ واقعہ بھارت میں مسلم مذہبی مقامات سے متعلق جاری تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف ریاستوں میں مساجد، مدارس، مزارات اور درگاہوں کے خلاف انہدام یا تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دہلی کے مہرولی میں 2024 میں تقریباً 600 سال پرانی اخوندجی مسجد اور اس سے منسلک مدرسے کو منہدم کیا گیا، جبکہ اتراکھنڈ، گجرات، اتر پردیش، آسام، راجستھان اور مہاراشٹر میں بھی مسلم مذہبی مقامات کے خلاف مختلف کارروائیاں رپورٹ ہوچکی ہیں۔

مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے ایسی کارروائیوں میں مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانونی طریقہ کار کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، جبکہ متعلقہ بھارتی حکام عموماً ان اقدامات کو تجاوزات، اراضی کے تنازعات یا ترقیاتی منصوبوں سے جوڑتے ہیں۔

Watch Live Public News