امریکی شہریوں کی ملک بدری کی تجویز پر قانونی ماہرین کا اظہار تشویش

امریکی شہریوں کی ملک بدری کی تجویز پر قانونی ماہرین کا اظہار تشویش
کیپشن: امریکی شہریوں کی ملک بدری کی تجویز پر قانونی ماہرین کا اظہار تشویش

ویب ڈیسک: سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے امریکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی تجویز نے قانونی اور آئینی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو اس خیال کو نہ صرف غیر آئینی بلکہ انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ تجویز اس وقت دی جب وہ وائٹ ہاؤس میں ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیلے سے ملاقات کر رہے تھے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کے "خطرناک مجرموں" کو ایل سلواڈور کے ایک بدنام زمانہ قید خانے میں بھیجا جائے، جہاں صدر بوکیلے کے مطابق وہ "کبھی واپس نہیں آئیں گے۔"

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ان مجرموں کی بات کر رہے ہیں جو عوامی مقامات پر بے گناہوں کو نشانہ بناتے ہیں، جیسے کہ سب وے پر لوگوں کو دھکیلنا یا بوڑھی خواتین پر حملہ کرنا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قدرتی طور پر حاصل ہونے والی شہریت کے بجائے کسی شہری کی شہریت جعلی طریقے سے حاصل کی گئی ہو تو اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے، مگر عام امریکی شہری کو صرف جرم کی بنیاد پر ملک بدر کرنا امریکی آئین کے خلاف ہے۔

جارج میسن یونیورسٹی کے پروفیسر ایلیا سومن نے کہا، "یہ بالکل واضح طور پر غیر آئینی ہے۔ امیگریشن قوانین امریکی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتے۔"

امریکن امیگریشن کونسل کی وکیل ایما وِنگر نے واضح کیا کہ کسی شہری کو محض الزام کی بنیاد پر جلاوطن کرنا بنیادی شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بحث اُس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب ایک حالیہ کیس میں ایک شخص، کلما ابریگو گارسیا، کو بغیر کسی جرم کے ایل سلواڈور بھیج دیا گیا۔ عدالت نے اس کی واپسی کا حکم دیا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اب امریکی دائرہ اختیار سے باہر ہے اور اس کی واپسی کا فیصلہ صرف ایل سلواڈور کے ہاتھ میں ہے۔

سپریم کورٹ کی جج سونیا سوٹومیئر نے اپنے ایک فیصلے میں خبردار کیا کہ اگر حکومت کی یہ منطق قبول کر لی جائے تو امریکی شہریوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

کیتو انسٹیٹیوٹ کے ماہرِ امیگریشن ڈیوڈ بیئر نے خبردار کیا کہ یہ پالیسی "بیرونِ ملک قید کے ذریعے ماورائے عدالت سزاؤں" کے مترادف ہے اور اس کے خلاف فوری عدالتی کارروائی ضروری ہے۔

فی الحال امریکی محکمہ انصاف نے اس تجویز پر کسی واضح قانونی بنیاد کا اعلان نہیں کیا، البتہ صدر ٹرمپ کی مشیر پام بونڈی کے مطابق وہ اس قانون کا جائزہ لے رہی ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی تجاویز کو عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Watch Live Public News