ویب ڈیسک : فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے ان تین اسرائیلی یرغمالوں کورہا کردیا۔ جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی 369 فلسطینی قیدیوں کو ریڈ کراس ٹیموں کے حوالے کر دیا گیا۔
اسرائیل نے تین یرغمالوں کی رہائی کی تصدیق کردی ہے ۔ ان میں 36 سالہ امریکی ساگی ڈیکل چن بھی شامل ہے جو جنوبی اسرائیل کے علاقے کیبوتز نیراوز کے رہائشی ہیں۔
چن کو حماس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پران دہشت گردانہ حملوں کے دوران پکڑا تھا جس میں اسرائیل کے مطابق 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 250 کو عسکریت پسند یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ لے گئے تھے۔ساگی کے یرغمال بنائے جانے کے دو ماہ بعد ان کی بیوی ایوتال نے تیسری بیٹی کو جنم دیا تھا۔
رہا ہونے والوں میں کیبوتز نیراوز کے 29 سالہ ساشا تروفل بھی شامل ہیں جنہیں اکتوبر کے اسی حملے میں اپنی والدہ الینا، دادی وٹالی اور گرل فرینڈ سپیر کوہن کے ساتھ یرغمال بنایا گیا تھا۔ ان تینوں کو نومبر 2023 کی ایک ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت رہائی مل گئی تھی۔ یہ خاندان 25 سال قبل روس سے آ کر اسرائیل میں آباد ہوا تھا۔
تیسرے رہا ہونے والے یرغمال کی شناخت 46 سالہ اسرائیلی ارجنٹائنی آئیر ہارن کے نام سے ظاہر کی گئی ہے۔ ان کا تعلق بھی کیبوتز نیر اوز سے ہے۔ انہیں 7 اکتوبر 2023 کو اپنے بھائی ایتان کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ یرغمالوں کی رہائی کے اس دوسرے مرحلے میں ان کے بھائی کا نام شامل نہیں ہے۔
روسی صدر پوٹن کی درخواست پر روسی قیدی بھی رہا
اسلامی جہاد کے عسکری ونگ ’سرایا القدس‘ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی درخواست پر رہائی سے قبل غزہ کی پٹی کے ساحل پر روسی نژاد اسرائیلی قیدی الیگزینڈر تروفانوف کی ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسے غزہ کے ساحل پر چہل قدمی کرتے دکھایاگیا ہے۔

تصاویر اور ویڈیوز میں قیدی کو اچھی حالت میں غزہ کے ساحل پر چہل قدمی کرتے اور سمندر میں پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا۔
ویڈیو میں تروفانوف کو کیلے کھاتے، مچھلیاں پکڑتے اور عبرانی میں کاغذ کی سفید شیٹ پر کچھ لکھتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحریک نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر آج 15 فروری ہفتے کو روسی نژاد الیگزینڈر تروفانوف، امریکی نژاد ساگی ڈیکل اور یایرن ہور کو رہا کرنے کا فیٍصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ کی پھر حماس کو دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ‘مجھے نہیں معلوم کہ ہفتہ کو 12 بجے کیا ہونے والا ہے۔ میں بہت سخت موقف اختیار کروں گا۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے… یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بینجمن نیتن یاہو کیا کرنے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگرچہ حماس نے کہا تھا کہ وہ منصوبہ بندی کے مطابق یرغمالیوں کو رہا کر دیں گے لیکن وہ اس بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ‘آپ کو اسے دیکھنا ہوگا، یہ حماس نے کہا تھا کہ ہم یرغمالیوں کو رہا نہیں کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے۔ آپ کے پاس ہفتہ کو 12 بجے تک کا وقت ہے۔ اب حماس کہہ رہی ہے کہ ہم یرغمالیوں کو رہا کرنے جا رہے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں تمام یرغمالیوں کو رہا کر دینا چاہیے۔
ریڈ کراس کو یرغمالیوں تک رسائی دی جائے
ادھر بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر نے بتایا ہے کہ وہ غزہ میں یرغمالیوں کی حالت کے حوالے سے "نہایت تشویش" رکھتی ہے۔ صلیب احمر وہ تنظیم ہے جو اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ایکس پلیٹ فارم پر جاری بیان میں صلیب احمر کا کہنا ہے کہ "یرغمالیوں کی رہائی کی حالیہ کارروائیوں نے اس بات کی ضرورت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے کہ بین الاقوامی تنظیم کو یرغمالیوں تک رسائی دی جائے۔
اسرائیل 369 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا
نیوز ایجنسی ژنہوا نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز 369 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ ان میں سے 333 کو غزہ واپس بھیجا جائے گا۔ دس دیگر کو مغربی کنارے میں اپنے گھروں کو واپس کر دیا جائے گا اور ایک کو عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے مشرقی یروشلم میں رہا کر دیا جائے گا۔ باقی 25 قیدیوں کو یا تو غزہ یا مصر کے راستے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان 19 جنوری سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کی یہ چھٹی کھیپ ہوگی۔
اس سے قبل حماس نے الزام لگایا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے کر رہا ہے اور امداد کی آمد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ حماس نے دھمکی دی تھی کہ وہ مزید یرغمالوں کی رہائی روک دے گا۔
اس پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نےدھمکی دی تھی کہ یرغمالوں کی رہائی روکے جانے کی صورت میں جنگ بندی ختم ہو جائے گی اور شدید حملے کیے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یرغمالوں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔
یاد رہے کہ اب تک جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں پانچ باریوں میں 16 اسرائیلیوں اور ان کے مقابل سیکڑوں فلسطینیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ معاہدہ 3 مرحلوں پر مشتمل ہے۔
معاہدے کا پہلا مرحلہ 42 روز تک جاری رہے گا۔ اس دوران میں 33 اسرائیلی اسیروں کے مقابل تقریبا 700 فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں 100 کے قریب یرغمالیوں میں سے اس وقت زندہ افراد کی تعداد تقریبا 50 ہے۔