ویب ڈیسک: یورپی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات 1 اگست تک کامیاب نہ ہوئے، تو یورپی یونین 84 ارب ڈالر (72 ارب یورو) مالیت کی امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔
برسلز میں یورپی وزرائے تجارت کے اجلاس کے دوران یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفکووچ نے کہا کہ اگر واشنگٹن کی جانب سے کسی معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو یورپ جوابی اقدامات پر عمل درآمد کرے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی مصنوعات پر 30 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کے باعث کئی ماہ سے جاری مذاکراتی عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
یورپی وزراء کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم متفقہ طور پر اس بات پر تیار ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو یورپی یونین سخت ردعمل دے گا۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوک راسموسن نے اجلاس میں کہا، "یورپی ممالک متحد ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو ہم بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔"
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یورپی یونین نے اس سے قبل بھی امریکہ کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم پر لگائے گئے ٹیرف کے ردعمل میں 21 ارب یورو کی امریکی مصنوعات کی ایک فہرست مرتب کی تھی، جس پر فی الحال عملدرآمد روکا گیا ہے تاکہ یکم اگست سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔