ویب ڈیسک: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات تاحال ناکام نہیں ہوئے، تاہم یہ عمل ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ صرف اپنا دفاع کیا، اور تہران جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکا کا رویہ اور دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جس کے باعث ایران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ سفارتکاری اور دانشمندی کامیاب ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا اور اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے میں اس حوالے سے ثبوت پیش کر چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ وہاں موجود رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں، البتہ بعض علاقوں میں بارودی سرنگوں کے باعث صورتحال پیچیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بحری جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے لیے رہنمائی کر رہا ہے اور کئی بھارتی جہازوں کی بھی مدد کی گئی۔
روس سے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری موجود ہے اور دونوں ممالک علاقائی و عالمی امور پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے روس کی جانب سے یورینیم افزودگی کی منتقلی سے متعلق پیشکش کا خیرمقدم کیا، تاہم واضح کیا کہ فی الحال اس تجویز پر غور نہیں کیا جا رہا۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران ہر اس ملک کی کوشش کو سراہتا ہے جو مذاکرات میں مدد کرنا چاہتا ہو، اور پاکستان کی ثالثی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کوشش ہے۔