ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیلابی ریلے میں بہنے والے مزید 8 افراد کی لاشیں مختلف مقامات سے برآمد ہو گئی ہیں، جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 20 ہو چکی ہے۔
حکام کے مطابق چار لاشیں بشبنڑ کے علاقے سے جبکہ مزید چار لاشیں مینگورہ کے ڈائیو اڈہ کے قریب سے ملی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے بتایا کہ دو افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ہیں جبکہ کم از کم چار لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان نے میڈیا کو بتایا کہ حالیہ بارشوں اور طوفانی ریلوں نے ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اب تک 2071 افراد کو مختلف علاقوں سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کے اہلکار دن رات ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
شدید بارشوں کے باعث مینگورہ، منگلور، مٹہ اور کوکارئی کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں سیلابی ریلے درجنوں مکانات، دکانوں اور دیگر عمارتوں کو بہا کر لے گئے، جبکہ سڑکیں اور رابطہ پل بھی تباہ ہو گئے۔ ضلع کے دیگر علاقوں مکان باغ، ملا بابا، لنڈیکس، شہید آباد اور امان کوٹ میں بھی مکانات اور کاروباری مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق گھروں اور دکانوں میں موجود سامان مکمل طور پر ضائع ہو گیا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنی مدد آپ کے تحت صفائی اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم انہیں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
ریسکیو حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہے، جس کے باعث مزید طغیانی کا خدشہ موجود ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔