امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان نیا تجارتی معاہدہ طے پاگیا

امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان نیا تجارتی معاہدہ طے پاگیا
کیپشن: امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان نیا تجارتی معاہدہ طے پاگیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت انڈونیشی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے ممکنہ 32 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کے بدلے میں امریکا کو انڈونیشی مارکیٹ تک مکمل رسائی حاصل ہو گی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں انڈونیشیا نے امریکی کمپنیوں کو اپنی منڈی میں زیادہ تجارتی مواقع دینے اور کئی درآمدی محصولات میں کمی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جن میں زرعی اجناس اور مخصوص صنعتی مصنوعات شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہاکہ "وہ (انڈونیشیا) 19 فیصد ٹیرف ادا کریں گے اور ہم کچھ بھی نہیں دیں گے۔ ہمیں مکمل رسائی حاصل ہوگی۔"

معاہدے کی تفصیلات اور انڈونیشیا کا ردعمل

تاحال انڈونیشی حکومت کی جانب سے اس معاہدے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم ایک اعلیٰ انڈونیشی عہدیدار نے بتایا کہ جلد ایک سرکاری بیان جاری کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انڈونیشیا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 15 ارب ڈالر کی امریکی توانائی، 4.5 ارب ڈالر کی امریکی زرعی اجناس اور 50 بوئنگ طیارے خریدے گا۔

یہ اعداد و شمار پہلے سے متوقع معاہدے سے کم ہیں، جس کی تفصیل رواں ماہ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں دی گئی تھی۔

معاہدے کا پس منظر اور دیگر تجارتی دباؤ

یہ معاہدہ ان کئی تجارتی مذاکرات کا حصہ ہے جو اس سال کے آغاز میں امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد دنیا بھر میں شروع ہوئیں۔ ٹرمپ حکومت نے یکم اگست سے درجنوں ممالک پر نئے ٹیرف نافذ کرنے کا عندیہ دیا تھا، جن میں یورپی یونین، کینیڈا، میکسیکو، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

انڈونیشیا کو بھی پچھلے ہفتے ایک سرکاری خط موصول ہوا تھا جس میں 32 فیصد ٹیرف کا عندیہ دیا گیا تھا، جس پر انڈونیشی حکام حیران رہ گئے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔

ماہرین کی رائے

کیلیفورنیا کی پامونا کالج میں معاشیات کے پروفیسر اسٹیفن مارکس کا کہنا ہے کہ "یہ معاہدہ انڈونیشیا کے لیے اقتصادی سے زیادہ سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ امریکا انڈونیشیا سے الیکٹرانکس، کپڑے، جوتے اور پام آئل کی بڑی مقدار میں درآمد کرتا ہے، جو امریکی صارفین کے لیے اہم اجناس ہیں۔

ان کے مطابق، اگرچہ امریکا انڈونیشیا کے لیے ایک اہم درآمدی شراکت دار ہے، مگر یہ تعلق چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کمزور ہے۔

مزید معاہدے متوقع ہیں

اب تک امریکا نے صرف برطانیہ، چین، ویتنام اور اب انڈونیشیا کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جن میں سے اکثر معاہدوں میں اہم نکات غیر واضح یا حل طلب چھوڑ دیے گئے ہیں، جب کہ اعلیٰ ٹیرف بدستور برقرار ہیں۔

ایورٹ آئسن اسٹیٹ، جو پہلی ٹرمپ انتظامیہ میں اقتصادی مشیر رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ مزید معاہدوں کا اعلان جلد متوقع ہے، لیکن کئی ممالک اب اپنی توقعات میں نرمی لا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ"حکومتوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر رہیں، بجائے اس کے کہ وہ عمل سے باہر ہو جائیں۔"

Watch Live Public News