ویب ڈیسک: امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ میکسیکو سے درآمد کیے جانے والے ٹماٹروں پر فوری طور پر 17 فیصد ٹیرف (درآمدی ٹیکس) نافذ کر رہی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور میکسیکو کے درمیان طویل عرصے سے جاری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ امریکی کسانوں کو میکسیکو کی سستی درآمدات سے تحفظ دینے میں ناکام رہا۔
امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ"ہماری مقامی زراعت طویل عرصے سے غیر منصفانہ تجارتی رویوں کا شکار رہی ہے، جس سے ہماری پیداوار جیسے ٹماٹروں کی قیمت متاثر ہوئی ہے۔"
میکسیکو کا ردعمل اور ممکنہ اثرات
میکسیکو نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹماٹروں کی مقبولیت ان کے معیار کی وجہ سے ہے، نہ کہ کم قیمت کی وجہ سے۔ میکسیکن حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نئی تجارتی شرائط پر بات چیت کرے گی، اور اپنے کسانوں کے لیے متبادل مارکیٹوں کی تلاش میں مدد فراہم کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا ٹیرف امریکی سپر مارکیٹس اور ریسٹورنٹس میں قیمتوں میں اضافہ کا باعث بنے گا، خاص طور پر پیزا سوسز اور سالسا جیسی مصنوعات متاثر ہوں گی۔
امریکی صارفین اور کسانوں پر اثرات
امریکی مارکیٹ میں استعمال ہونے والے تقریباً 70 فیصد ٹماٹر میکسیکو سے درآمد ہوتے ہیں، جیسا کہ فلوریڈا ٹماٹو ایکسچینج کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ ٹیرف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقامی پیداوار کو فروغ ملے گا، اور صارفین امریکی ٹماٹر خریدنے کی طرف مائل ہوں گے۔
تاہم میکسیکو کی وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ امریکی منڈی میں میکسیکو کے ٹماٹروں کا نعم البدل تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔
پس منظر: 1996 سے جاری کشمکش
امریکی کسانوں نے سب سے پہلے 1996 میں شکایت درج کروائی تھی کہ میکسیکن کاشتکار ٹماٹر امریکی منڈی میں غیر منصفانہ طور پر کم قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں امریکا نے اینٹی ڈمپنگ قانون کے تحت درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔
تاہم بعد ازاں پانچ مختلف معاہدے کیے گئے، جن کے تحت میکسیکو نے ٹماٹر کم از کم قیمت پر فروخت کرنے پر اتفاق کیا اور ٹیرف معطل کر دیے گئے۔
امریکا نے اب 2019 میں کیے گئے تازہ ترین معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس کے بعد یہ نیا 17 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔
مزید سخت اقدامات کی دھمکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ یکم اگست سے میکسیکو کی تمام درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میکسیکو نے شمالی امریکا کو "منشیات کی تجارت کا مرکز" بننے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
یہ صرف میکسیکو تک محدود نہیں، امریکا نے برازیل، چین اور یورپی یونین کو بھی ٹیرف کی دھمکیاں دی ہیں۔