(ویب ڈیسک)سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آٹا، بجلی اور حقوق کے نام پر احتجاج کرنیوالوں کے پیچھے خوفناک ایجنڈا ہے،جمہوری سسٹم ہمیشہ ڈائیلاگ اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،آزاد کشمیر میں جمہوری سسٹم پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے،آزاد کشمیر میں سڑکوں پر رکاوٹیں ریاست نے نہیں انتشاری ٹولے نے رکھی ہیں، انتشاری ٹولے نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران تنازعہ انتہائی پیچیدہ اور برسوں پرانا تھا، پاکستان نے بطور ثالث انتہائی بہترین کردار ادا کیا، پاکستان کو بطور ثالث اپنا کردار انتہائی ذمہ داری سے ادا کرنا ہے، پاکستان ہیڈ لائن ڈپلومیسی میں یقین نہیں رکھتا، ایران امریکہ تنازع اور جنگ بندی سے متعلق کسی بھی قسم کی قیاس ارائی مسائل کا باعث بن سکتی ہے، اسرائیل بھی اس تنازعہ کا فریق ہے اور بین الاقوامی میڈیا پر اثر ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 19 جون کو جینیوا میں معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے،تمام مسلم ممالک کی قیادت کو کریڈٹ ملتا ہے، پاکستان نے مسلم امہ کی آپسی لڑائی کو بھی روکا، پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر نے اہم ترین کردار ادا کیا،مسئلے کے حل میں متحدہ عرب امارات نے بھی مثبت کردار ادا کیا، پاکستان اور متحدہ عرب امارات برادر مسلمان ملک ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کی سفارت کاری میں ٹائم ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتا، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جو بھی کردار ادا کیا تاکہ دونوں گروپس کا پاکستان کے اوپر مکمل طور پر ٹرسٹ موجود رہے،وزیراعظم نے جب بھی ٹویٹ کیا تو ڈائریکٹ دنیا کو ایک خبر ملی ، کسی اور کو الگ سے نہیں ملی،آئی ایس پی آر نے صرف2پریس ریلیز جاری کیں ،پہلی جب فیلڈ مارشل نے ایران کادورہ کیا تھا ۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری اس پوری صورتحال میں میڈیا نے بہت اچھا کردارکیا ،جنگ کے دھچکے امیر اورغریب سب نے محسوس کیے،اگر خوانخواستہ جنگ پھیلتی تو انرجی اورسکیورٹی پر اس کے بھیانک اثرات ہوتے، پاکستان کی کوششوں میں اللہ کی مدد شامل تھی،مسلم ممالک نے اس پوری صورتحال میں برداشت سے کام لیا، سعودی عرب اوریواے ای سمیت مسلم ممالک نے برداشت کامظاہر ہ کیا۔ پاکستان کی سفارت کاری اپنی بنائی ہوئی ہے کسی سے مستعار نہیں لی ۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے چاہ بہار پورٹ سے متعلق بیان پر سیکیورٹی ذرائع کاردعمل آگیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں ،کون کس سے ملتاہے پاکستان کو اس سے غرض نہیں ،ہمیں اس معاملے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،پہلے کہا جاتاتھا کہ شہد سے میٹھے ،ہمالیہ سے بلند اورآئرن سے زیادہ مضبو ط چین سے تعلقات ہیں ،اب ہم کہتے ہیں پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات پلاٹینیم سے بھی زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں ۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہمارے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات ہیں ، کسی نے ہم سے سوال کیا نہ کسی کو کرنا چاہئے اورنہ ہمیں پریشان ہونا چاہئے ، ہمارے روس ، سعودی عرب ، ایران کے ساتھ اخلاص کے ساتھ تعلقات ہیں۔
آزاد کشمیر
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آٹا،بجلی اور حقوق کے نام پر آزاد کشمیر میں تماشہ کیا گیا،بجلی اور حقوق کے نام پر پہلے عوام کی ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کی گئی،آٹا، بجلی اور حقوق کے نام پر احتجاج کرنیوالوں کے پیچھے خوفناک ایجنڈا ہے،جمہوری سسٹم ہمیشہ ڈائیلاگ اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،آزاد کشمیر میں جمہوری سسٹم پاکستان سے زیادہ مضبوط ہے،آزاد کشمیر میں سڑکوں پر رکاوٹیں ریاست نے نہیں انتشاری ٹولے نے رکھی ہیں، انتشاری ٹولے نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق نام نہاد ایکشن کمیٹی بتدریج عوام کے سامنے ایکسپوز ہوئی ہے،ہم جانتے ہیں کہ انتشاری ٹولے کی آزاد کشمیر میں کیا پلاننگ ہے، ہم جانتے ہیں کہ کون انہیں دوسری جانب کے راستے کھولنے کا کہہ رہا ہے،آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے اصل صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے، ریاست کو آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں ہے،آزاد کشمیر سیاسی طور پر متحرک خطہ ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے، بھارتی فوج طاقت سے کشمیر نہیں لے سکتی،قانون ہاتھ میں لینے والوں سے اہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرملکی عناصرآزادکشمیرکی صورتحال اپنےمقاصدکیلئےاستعمال کررہےہیں،ہمیشہ مذاکرات کوترجیح دی گئی ہے،پولیس اہلکاروں پربہیمانہ تشددکیاگیا،آزادکشمیرکی سپریم کورٹ مہاجرین کی نشستوں پرواضح جواب دےچکی ہے،ریاست نےہرممکن طورپرتحمل کامظاہرہ کیاہے،ریاست پہلےماں اورپھرباپ کاکرداراداکرتی ہے، مذموم ٹولوں کوبےنقاب کیاجائےگا،آزادکشمیرکے الیکشن میں عوام اپنی رائےکااظہارکرےگی،ریاست قوانین اورآئین کےمطابق منفی عناصرسےنمٹےگی،کشمیرکےحوالےسےسوشل میڈیاپرمذموم ایجنڈہ پھیلایاجارہاہے،آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار اور جوان پاکستان کی مسلح افواج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دفاعی بجٹ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملکی دفاعی بجٹ3ہزارارب روپےمختص کیاگیاہے، بجٹ میں اضافہ افراط زرکی شرح کودیکھتےہوئےکیاگیا،دفاعی بجٹ کا80فیصدسےزائدپٹرولیم مصنوعات،راشن،تعمیرومرمت پرخرچ کیاجاتاہے،بھارت کادفاعی بجٹ تقریباً93ارب ڈالرکےقریب ہے، مسلح افواج کوروایتی اورغیرروایتی خطرات کاسامناہے، رواں برس پاکستان کا دفاعی بجٹ تین ٹرلین روپے ہے،رواں برس پاکستان کے دفاعی بجٹ میں 450 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا،دفاعی بجٹ کا 85 فیصد لازمی اخراجات کی مد میں جاتا ہے، لازمی اخراجات کے بعد بہت کم رقم پروکیورمنٹ اور ڈیویلپمنٹ کے لیے بچتی ہے۔ہ 450 ارب روپے کا اضافہ بہت کم ہے، قومی سلامتی کا اہم جز ملکی معیشت بھی ہے۔
امریکہ ایران معاہدہ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ معاہدہ انتہائی خوش آئند ہے ، پاکستان متحرک ثالث کا کردار ادا کررہا ہے،معاہدہ عالمی امن کےلیے خوش آئند ہے،تمام دوست ممالک کا مکمل تعاون حاصل ہے،ہم ہیڈ لائن سفارت کاری پر یقین نہیں رکھتے،پائیداراورمستقل حل کیلئےتعمیری اورمثبت کرداراداکررہےہیں، امریکہ ایران معاہدے کے بہت سے پہلو بدستور خفیہ ہیں، پاکستان نےمسلم امہ کی آپسی لڑائی کوروکا، پاکستان خطے میں امن واستحکام چاہتاہے،پوری قوم فیلڈمارشل کےاس کازمیں ساتھ کھڑی ہے،جنگ کےبغیرجیت جانا ہی سب سےبڑی کامیابی ہے، پاکستان نےمسلم بھائی چارے کوبرقراررکھنےکیلئےکرداراداکیا، پاکستان میں عالمی بالخصوص مسلم امہ کوسنگین نقصان سےبچایا، پاکستان نےدوست ممالک کی درخواست پرلبیک کہا، پاکستان کی درخواست پردوست ممالک نےجنگ سےگریزکیا۔
افغانستان اور آپریشنز
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تمام مسائل کو بات چیت سے حل کرنا چاہتا ہے،سال 2026 میں 15 جون تک پاکستان میں 32092 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے،خیبر پختونخوا میں 5710 اور بلوچستان میں 24718 آئی بی اوز کئے گئے،15 جون تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 1402 واقعات ہوئے بلوچستان میں دہشت گردی کے 748 واقعات ہوئے،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا،دہشتگردی کے واقعات میں 640 شہادتیں ہو چکی ہیں،دہشتگردی کےواقعات میں 640شہادتیں ہوچکی ہیں،
پاکستان نےدہشتگردٹھکانوں پرکامیاب اورمنظم کارروائیاں کیں، پاکستان کی کارروائیاں افغان عوام کیخلاف نہیں تھیں،یہ کارروائیاں صرف دہشتگردعناصرکیخلاف کی گئی۔
آبی مسئلہ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈس واٹرٹریٹی کےحوالےسےپاکستان کامؤقف واضح ہے،بھارت عالمی قوانین کےتحت انڈس واٹرٹریٹی پریکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا،بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو پر عمل درآمد نہیں روک سکتا،تمام بین الاقوامی قوانین سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے حق میں ہیں، پاکستان سندھ معاہدے کے حوالے سے بالکل واضح ہے، ریاست کے احکامات پر مسلح افواج سٹیٹس کو بحال کرنے کی طاقت رکھتی ہیں، پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنے کا بھارتی بیانیہ دم توڑ چکا ہے، پاکستان اپنےمفادات کےتحفظ کیلئےہرحدتک جائےگا، اپنےمفادات کاتحفظ کرناجانتےہیں اورکریں گے،وقت آنےپراسٹیٹس کوبحال کرکےدکھائیں گے،مسلح افواج ملکی مفادات کاتحفظ کرناجانتی ہیں،مسلح افواج ملکی دفاع کیلئےہروقت تیارہیں۔
بلوچستان
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کےحوالےسےریاست کی سوچ واضح ہے،دہشتگردتنظیموں کوبھارت اسپانسرڈ کررہاہے، کئی غیرملکی ایجنسیاں بھی بلوچ تنظیموں کوسپورٹ کررہی ہیں،دشمن عناصربلوچستان کی ترقی نہیں چاہتے، بلوچستان میں پائیدارترقی کیلئےاقدامات کیےجارہےہیں،ضلعی سطح پرترقیاتی منصوبوں پرکام ہورہاہے،کسی بھی معاشرےمیں حقوق ناملنےپرلوگ خودکھڑےہوجاتےہیں،ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بی ایل اے خالصتا دہشت گرد تنظیم ہے، بلوچستان میں دہشت گردی کو فنڈنگ متحدہ عرب امارات سے نہیں مل رہی،بلوچستان میں خواتین کو ہنی ٹریپنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،بلوچستان میں وزیراعلی ہم نہیں بناتے،9 مئی پوری قوم کا مسئلہ ہے، ذاتی نوعیت کا نہیں،جو لوگ روپوش ہیں وہ مشکلات کا شکار ہیں،قانون سے روپوش افراد کی پارٹی نہیں چل رہی۔