ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران جب وہ ابوظہبی پہنچے، تو متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جیسے ہی ان کا طیارہ امارات کی فضائی حدود میں داخل ہوا، جیٹ طیاروں نے فضا میں سلامی دے کر ان کے استقبال کا آغاز کیا۔
بعد ازاں، قصر الوطن (صدارتی محل) میں سفید لباس میں ملبوس خواتین نے ایک منفرد ثقافتی انداز میں امریکی صدر کا استقبال کیا۔ ان خواتین نے کھلے بالوں کے ساتھ دائیں بائیں جھومتے ہوئے ایک رقص پیش کیا، جس نے سوشل میڈیا پر دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔
The welcome ceremony in UAE continues! ???????????????? pic.twitter.com/sXqS1IboMN
— Margo Martin (@MargoMartin47) May 15, 2025
یہ استقبالیہ ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بعض صارفین نے حیرت کا اظہار کیا، کچھ نے اسے دلچسپ اور روایتی قرار دیا، جب کہ چند نے تنقید بھی کی کہ ایسے استقبال کی توقع نہیں تھی۔
" العیالہ" کیا ہے؟
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس رقص نما مظاہرے نے سب کی توجہ حاصل کی، وہ دراصل متحدہ عرب امارات کی روایتی ثقافت کا ایک حصہ ہے جسے " العیالہ" کہا جاتا ہے۔ یہ مظاہرہ ایک جنگی منظر کی علامتی عکس بندی کرتا ہے، جسے شادیوں، تہواروں اور اہم مہمانوں کے استقبال کے موقع پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ روایت متحدہ عرب امارات اور شمالی عمان میں عام ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیسکو (UNESCO) نے بھی اسے ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
رقص کا انداز اور پیغام
" العیالہ" میں مرد حضرات بانس کی چھڑیوں کے ساتھ دو صفوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، جو نیزوں اور تلواروں کی علامت ہوتی ہیں۔ وہ ڈھول کی تھاپ پر اپنے سر اور چھڑیوں کو حرکت دیتے ہیں۔ دوسری جانب خواتین بھی اسی ردھم پر اپنے بالوں کو لہراتی ہیں، جو وقار، فخر اور بہادری کی علامت ہوتا ہے۔
یہ رقص صرف تفریح نہیں بلکہ ثقافتی شناخت اور مہمان نوازی کی علامت بھی ہے، جس کے ذریعے اماراتی عوام اپنے مہمانوں کو عزت و احترام سے خوش آمدید کہتے ہیں۔