عرب خطے کےملک 'قطر' کی اصل طاقت کیا ہے؟

عرب خطے کےملک 'قطر' کی اصل طاقت کیا ہے؟
کیپشن: عرب خطے کےملک 'قطر' کی اصل طاقت کیا ہے؟

ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر قطر کے گرد سمٹ آئی ہے جہاں اسلامی ممالک کا ایک غیر معمولی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس اسرائیلی فضائی حملے کے بعد بلایا گیا تھا جس نے دوحہ سمیت خطے کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ اجلاس کے بعدشرکاء نے ایک متفقہ اعلامیہ بھی جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 9 ستمبر کو اسرائیل نے دوحہ پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے سمیت 6 فلسطینی شہید ہوئے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب قطر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ جنگ بندی پر ثالثی کر رہا تھا۔ نیتن یاہو نے اس حملے کو امریکا کے نائن الیون کے بعد کی کارروائیوں سے تشبیہ دیتے ہوئے قطر کو " دہشت گردوں کی پناہ گاہ" قرار دیا اور مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ قطر نے خطے میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہو۔ اس سے قبل قطر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد جیسے نازک معاملات پر بھی پل کا کردار نبھایا۔ 2020 کے "دوحہ معاہدے" میں بھی قطر نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات کو ممکن بنایا، جس سے اس کے ثالثی کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔

قطر کی اصل طاقت ہے کیا؟

قطر کی اصل طاقت اس کی معیشت ہے۔ 2025 کا بجٹ 210.2 ارب قطری ریال اخراجات اور 197 ارب ریال آمدنی پر مبنی ہے، جس میں 154 ارب صرف تیل و گیس سے متوقع ہیں۔ اگرچہ خسارہ 13.2 ارب ریال ہے، لیکن اس کا حجم معیشت کے مقابلے میں معمولی سمجھا جاتا ہے۔ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اثاثے 500 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہیں، جو اسے سفارتی سطح پر بڑی لچک فراہم کرتے ہیں۔

قطر کا رقبہ محض 11,586 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 31 لاکھ ہے، مگر اپنی اعلیٰ فی کس آمدنی اور مالی خودمختاری کے باعث یہ چھوٹا ملک بڑے بڑے عرب ممالک کے مقابلے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ 2017 کے بائیکاٹ کے باوجود اس نے اپنی آزاد خارجہ پالیسی جاری رکھی۔

یہ اجلاس محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کی نئی صف بندی کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اب بھی قطر کو ثالث ماننے پر آمادہ ہوگا یا حالات کسی نئے رخ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

Watch Live Public News