"امریکی جنگی جہاز سمندر کی تہہ میں ڈبوئے جا سکتے ہیں"ایرانی سپریم لیڈر کی ٹرمپ کو وارننگ

(ویب ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکا کو  خبردار کیا کہ خلیج فارس میں تعینات امریکی جنگی جہازوں کو "سمندر کی تہہ میں ڈبویا جا سکتا ہے۔"

تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا،"دنیا کی سب سے مضبوط فوج کو ایسا تھپڑ پڑ سکتا ہے جس سے وہ سنبھل نہ سکے۔"

یہ بیان انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں دیا کہ واشنگٹن کے پاس دنیا کی "سب سے طاقتور فوج" ہے۔

آیت اللہ سید عالی خامنہ ای نے کہا کہ "وہ بار بار کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف ایک جنگی جہاز بھیجا ہے۔ ٹھیک ہے، جنگی جہاز یقیناً ایک خطرناک ہتھیارہے، لیکن جنگی جہاز سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں ڈبو سکتا ہے۔"

خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ ( USS Gerald R. Ford)، جسے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز قرار دیا جاتا ہے، مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں خطے کی جانب روانہ ہوگا۔

انہوں نے کہا، "اگر ہم معاہدہ نہ کر سکے تو ہمیں اس کی ضرورت ہوگی۔ یہ بہت جلد روانہ ہو جائے گا۔"

یو ایس ایس ابراہم لنکن(USS Abraham Lincoln) اور تباہ کن جہازوں کا ایک بیڑا پہلے ہی خلیج فارس میں موجود ہے، جنہیں گزشتہ ماہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بھیجا گیا تھا۔

جاری جوہری مذاکرات کے حوالے سے   آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ جب مذاکرات جاری ہوں تو پہلے سے نتیجہ طے کر لینا "غلط اور احمقانہ" عمل ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان عمانی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں شروع ہوا۔

ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جبکہ امریکی وفد کی سربراہی امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔ دونوں وفود نے جنیوا میں عمانی سفارت خانے میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جس کے بعد پیغامات کا تبادلہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے خبردار کیا تھا کہ ملک کے خلاف کسی بھی جنگ کا آغاز ٹرمپ کے لیے "سبق آموز" ثابت ہوگا۔

Watch Live Public News