(ویب ڈیسک ) بھارتی حکومت نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کیلئے سکھ یاتریوں کو پاکستان نہ بھیجنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی 29 جون کو منائی جاتی ہے جس میں بھارتی سکھ بھی شرکت کرتے ہیں۔
شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) کے اعلان کے مطابق ’’ سکھ یاتریوں کو مہاراجہ رنجیت کی برسی کیلئے پاکستان نہیں بھیجا جائے گا‘‘۔
سکھ عقیدت مندوں نے پاکستان میں برسی میں شرکت کیلئے اپنی سفری دستاویزات جمع کروا دی تھیں۔سیکرٹری ایس جی پی سی ایس پرتاپ سنگھ کے مطابق کمیٹی نے اس سال یاترا کے انعقاد سے انکار کر دیا ہے، یہ فیصلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے، بھارتی حکومت کی طرف سے جاری سفری پابندیوں اور ایڈوائزری کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا، ایس پرتاپ سنگھ۔
بھارتی حکومت کا یہ اقدام مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے جو خطے میں امن کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سکھ برادری کو ان کے مقدس مقامات تک رسائی دی ہے اور ان کی رسومات کا احترام کیا ہے۔
بھارت کی جانب سے سکھوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے روکنا ایک افسوسناک اور تعصب پر مبنی اقدام ہے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بھارت نہ صرف مسلمانوں کے خلاف بلکہ دیگر اقلیتوں کے مذہبی حقوق کو بھی سلب کر رہا ہے۔