ویب ڈیسک: امریکیوں کو حوثیوں کا منہ توڑ جواب،،، بحری جہاز پر ڈرون اور میزائل حملے،،،امریکا کو یمن پر ایک اور حملے کی تیاریاں معطل کرنا پڑگئیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں آئے 11 ڈرون مار گرائے اور حملے کے نتیجے میں کسی فوجی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا۔ گزشتہ روز امریکی افواج کے یمن پر بمباری سے ہلاکتوں کی تعداد 53 تک پہنچ چکی ہے۔
یمن میں حوثی گروپ کے فوجی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اس گروپ نے یمن پر امریکی حملوں کے جواب میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہیری ٹرومین اور اس پر موجود لڑاکا طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم حوثی فوجی ترجمان نے مذکورہ حملے کرنے کے شواہد فراہم نہیں کیے۔
ترجمان نے ایک بیان میں مزید کہا کہ یمن کی مسلح افواج اپنے ملک کے خلاف جارحیت کے جواب میں بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں تمام امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گی۔ وہ اللہ تعالی کی مدد سے اسرائیل کی بحری ناکہ بندی جاری رکھیں گے اور اعلان کردہ علاقے میں اس کے بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کریں گے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے تک آپریشن جاری رکھیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں یمن میں "متعدد" حوثی رہنما مارے گئے ہیں۔ اس سے ایران کو "انتباہ" جاری کیا گیا ہے وہ بحیرہ احمر میں اس گروپ کی حمایت اور بحری جہازوں پر حملے بند کرے۔
قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے فضائی حملوں میں "دراصل متعدد حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور ہلاک کیا گیا"۔
انہوں نے فاکس نیوز کو ایک اور بیان میں کہاکہ "ہم نے انہیں زبردست طاقت سے نشانہ بنایا۔ ہم نے ایران کو خبردار کیا کہ بہت ہو چکا ہے"۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یمن پر امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ حوثی عالمی جہاز رانی اور امریکی بحری ٹریفک پر حملہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجائیں۔
امریکا اور یمنی حوثی ایک دوسرے پر حملے بند کریں، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے یمن پر امریکی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور یمنی حوثیوں سے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کی اپیل کی ہے،، ترجمان اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں فوجی مہم جوئی سے حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں اور یمن میں تصادم خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتا ہے۔