ویب ڈیسک: حکومت پنجاب نے صوبے میں غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے نیا سخت قانون تیار کر لیا ہے، جسے جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے تیار کردہ مسودے پنجاب سرنڈر آف الیسٹ آرمز ایکٹ 2026 کے تحت غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 15 دن کے اندر اسلحہ جمع کرانے کی مہلت دی جائے گی، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بل کے مطابق غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر عمر قید اور جائیداد ضبطی کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ خودکار ہتھیار رکھنے پر کم از کم 10 سال اور دیگر اسلحہ پر 3 سے 14 سال قید کی سزا ہوگی۔
رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرانے والوں کو قانونی تحفظ دیا جائے گا، جبکہ ایکسپائر لائسنس رکھنے والوں کو تجدید کا آخری موقع فراہم کیا جائے گا۔
قانون کے تحت اسلحہ کیسز کے لیے ہر ضلع میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی اور مقدمات کا فیصلہ 45 دن میں کرنا لازمی ہوگا۔ تمام جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔
مزید برآں، اسلحہ لائسنس ہولڈرز کی جانچ پڑتال سخت کی جائے گی، جس میں ٹیکس ریکارڈ اور کریمنل ہسٹری بھی شامل ہوگی، جبکہ غیر قانونی اسلحہ کے خلاف سرچ آپریشنز کی ذمہ داری سی سی ڈی کو سونپی جائے گی۔
حکام کے مطابق نیا قانون 1991 کے موجودہ قانون کی جگہ لے گا اور صوبے میں اسلحہ کلچر کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا۔