پولیس اہلکارعمران خان سے ملاقات نہیں کرواتے،عمرایوب کا شکوہ

پولیس اہلکارعمران خان سے ملاقات نہیں کرواتے،عمرایوب کا شکوہ
کیپشن: پولیس اہلکارعمران خان سے ملاقات نہیں کرواتے،عمرایوب کا شکورہ

ویب ڈیسک:قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمرایوب نے کہا ہے کہ تین ماہ سے عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی جارہی۔جب قانون و آئین کی حکمرانی نہ ہوتو ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔حکومت ٹوپی گھماکر عوام کو بےوقوف بنا رہی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب نے میڈیا سےگفتگو میں کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف ہونے کے باوجود بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت ایک وفاقی وزیر کے برابر ہوتی ہے۔تین ماہ سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود بھی پولیس اہلکار ملاقات کی اجازت نہیں دیتے ۔بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور ہمارے رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہیں۔
عدالتی ضمانتوں کے باوجود بھی مجھ سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ایوان زیریں و بالا کے اپوزیشن لیڈرز کی آئینی حیثیت ہے۔ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے اہم تقرریاں کرتا ہے۔

عمرایوب کا مزید کہنا تھا کہ جب قانون و آئین کی حکمرانی نا ہو تو ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔حکومت کس قانون کے تحت لیوی کا نفاذ کرسکتی ہے۔حکومت ٹوپی گھما کر عوام کو بے وقوف بنارہی ہے۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کروانے کا معاملہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز  اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کے لیے اسلام آباد  ہائی کورٹ پہنچے جہاں پی ٹی آئی رہنما بائیومیٹرک تصدیق  کروانے کے بعد باقاعدہ طور پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر  کریں گے۔

واضح رہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز کی جانب سے اس سے قبل بھی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کے آرڈر کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی، تاہم توہین عدالت کی پہلی درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی تھی۔

اس موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی ہیں۔ ان کے علاوہ  تحریک تحفظ آئین کے رہنما اخونزادہ حسین بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے۔

Watch Live Public News