روسی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، طالبان پر عائد پابندی ہٹا دی گئی

روسی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، طالبان پر عائد پابندی ہٹا دی گئی

ویب ڈیسک: روس نے بڑا فیصلے کرتے ہوئے طالبان پر لگی پابندی ختم کردی، روس کی سپریم کورٹ نے 17 اپریل کو طالبان پر ملک میں عائد پابندی عارضی طور پر معطل کر دی تھی جس کے لیے درخواست پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

خبر ایجنسی کے مطابق یہ درخواست صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک سال قبل جاری کردہ ایک صدارتی فرمان پر مبنی ہے جس میں تحریک طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹانے کی اجازت دی گئی تھی۔ سنہ 2021 میں طالبان نے بین الاقوامی اتحادی افواج کے انخلا کے بعد کابل میں اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔

17 اپریل سے پہلے تک قانون تو یہ تھا کہ طالبان کے کسی بھی رکن کو روس میں داخلے پر گرفتار کیا جانا چاہیے اور اسے دہشتگردانہ سرگرمیوں کے الزام میں 20 سال تک قید کی سزا بھی ہونی چاہیے۔ تاہم عملی طور پر سنہ 2016 کے بعد سے کسی بھی طالبان رکن کو روس میں داخلے پر گرفتار نہیں کیا گیا۔

گرفتاریاں نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت روس نے طالبان کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات شروع کر دیے تھے جس کے بعد طالبان کے نمائندوں نے بارہا ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ کیا جہاں وہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر بھی نظر آئے۔

 گزشتہ برس صدر پوٹن نے طالبان کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی قرار دینا شروع کر دیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ بظاہر افغانستان کے ساتھ براہ راست جامع معاہدوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ آزاد انسانی حقوق کے گروپ پیروی اوٹڈیل کے یوگینی سمرنوف نے میڈیا کو بتایا کہ روسی فوجداری قانون دہشتگرد قرار دی گئی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے لیے مختلف قید کی سزائیں مقرر کرتا ہے۔

روس نے سنہ 2024 میں روس طالبان کے ساتھ تیل کی مصنوعات، گندم اور آٹے کی فراہمی کے معاہدے کیے، یہ معاہدے ممکنہ طور پر طالبان کے نمائندوں کی براہ راست شمولیت کے بغیر کاروباری اداروں کے ذریعے طے کیے گئے۔

Watch Live Public News