(ویب ڈیسک ) بھارتی ریاستی دہشتگردی اور بربریت، سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین 19 سال سے انصاف کے منتظر ہیں ۔
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بھارت میں انتہاپسندی اور ریاستی دہشت گردی کے واقعات حکومتی، سیاسی اور مذہبی مفادات کے تابع ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق 18 فروری 2007 کو دہلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو پانی پت کے مقام پر آئی ای ڈی بلاسٹ کے بعد آگ لگ گئی، بھارتی انتہاء پسند دہشت گردوں کے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے سے 43 پاکستانی، 10 بھارتی شہریوں سمیت68 افراد کی اموات ہوئیں۔
انڈیا ٹو ڈے کے مطابق واقعے کے بعد انتہاپسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے رکن کمل چوہان کی گرفتاری نے بھارتی سازش کو بے نقاب کیا، آر ایس ایس کے رکن کمل چوہان اور اسکے ساتھیوں نے دہلی سے چلنے والی ٹرین میں بارودی مواد نصب کر دیا تھا۔
دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی فوجی افسر کرنل پروہت نے بھی سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا،حملہ کی ماسٹر مائنڈ ابھیناو بھارت نامی تنظیم تھی جس کی بنیاد بھارتی فوجی میجر رمیش اپادھیائے اور لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت نے رکھی،ہندوستان کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں تمام مجرمان کو بری کیا۔
پاکستان نے بارہا بھارتی حکومت سے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے متاثرین کے لئیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ بھارت کے ریاستی مفادات کا تحفظ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حملہ کسی مسلمان تنظیم سے منسوب ہوتا تو بھارتی عدالتی نظام کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا،مودی حکومت کی ہندتوا نظریے کی ریاستی پالیسی کے باعث ایسے کیسز میں غیر جانبدار انصاف ممکن نہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ سانحہ نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ بھارتی ریاستی دہشت گردی، انتہاپسندی کی سرپرستی اور عدالتی جانبداری کی علامت ہے۔