ویب ڈیسک: اتوار کو ٹک ٹاک کی اسکرین تاریک ، 1 کروڑ 70 لاکھ امریکی صارفین رسائی سے محروم ، لاکھوں کی روزی روٹی بند ہوجائے گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی ٹک ٹاک کو بند ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ چینی صدر شی جن پنگ سے صدرٹرمپ کی ٹیلے فونک گفتگو میں دیگر موضوعات سمیت ٹک ٹاک کا مستقبل بھی زیر بحث آیا ۔
بائٹ ڈانس کمپنی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے نے کہا، 'جب تک بائیڈن انتظامیہ فوری طور پر انتہائی اہم سروس فراہم کنندگان یعنی ایپل اور گوگل کو مطمئن کرنے کے لیے فیصلے کے عدم نفاذ کے حوالےسے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کرتی تو 19 جنوری یعنی ہفتے کی رات بارہ بجے کے بعد ٹک ٹاک کی اسکرین تاریک ہوجائے گی۔
وائٹ ہاؤس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
یادرہے اگر ایپل، الفابیٹ کے گوگل، اوریکل اور دیگر اگر سپریم کورٹ پابندی کے نافذ ہونے کے بعد ٹک ٹاک کو خدمات فراہم کرتے رہے تو انہیں بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی، کہا ہے کہ وہ ایپ کو بچانے کے لیے کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ میں نے ابھی چین کے چیئرمین شی جن پنگ سے بات کی ہے۔ یہ کال چین اور امریکہ دونوں کے لیے بہت اچھی تھی یہ میری توقع ہے کہ ہم مل کر بہت سے مسائل حل کر لیں گے۔ ہم نے توازن تجارت، فینٹینیل ، ٹاک ٹاک ، اور بہت سے دوسرے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر شی اور میں دنیا کو مزید پرامن اور محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے!

نو منتخب امریکی صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ متوقع تھا اور سب کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ ٹک ٹاک کے بارے میں میرا فیصلہ بہت دور نہیں مستقبل میں کیا جائے گا، لیکن میرے پاس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وقت ہونا چاہیے۔ دیکھتے جاؤ

یادرہےتقریباً 170 ملین امریکی ویڈیو ایپ استعمال کرتے ہیں، اور کچھ نے خبردار کیا کہ چینی ملکیتی ایپ پر پابندی لگانے سے لاکھوں امریکیوں کے کاروبار اور روزی روٹی متاثر ہو گی۔
اب آگے کا راستہ اس بات پر منحصر ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کیسے جواب دیتی ہے ۔فیصلے کے چند لمحوں بعد، ٹرمپ نے CNN کو بتایا کہ TikTok کی قسمت 'بالآخر مجھ پر منحصر ہے، لہذا آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔'
'کانگریس نے مجھے فیصلہ دیا ہے، اس لیے میں فیصلہ کروں گا،' ٹرمپ نے کہا لیکن انھوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے بعد میں لکھا کہ فیصلے کا احترام کیا گیا، اور 'ہر ایک کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔'
انہوں نے پوسٹ کیا، ' ٹک ٹاک پر میرا فیصلہ بہت دور مستقبل میں کیا جائے گا، لیکن میرے پاس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وقت ہونا چاہیے۔
ٹک ٹاک کے سی ای او نے اس فیصلے کا جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا ایپ پر ایک ویڈیو پیغام پوسٹ کیا جہاں انہوں نے ٹرمپ کا براہ راست شکریہ ادا کیا اور دلیل دی کہ وہ 'آزادی تقریر کے آئینی حق کے تحفظ کے لیے' لڑ رہے ہیں۔
دوسری طرف لاکھوں امریکی کونٹینٹ کرئیٹرز نے ٹک ٹاک پر آخری جذباتی پوسٹس کرنے کاسلسلہ شروع کررکھا ہے ۔ جس میں کئی آبدیدہ ہوکر جذباتی پیغام شئیر کر رہے ہیں۔