آر ایس ایس کی وجہ سے بھارت کی دنیا بھر میں ہونے والی جگ ہنسائی بے نقاب

 آر ایس ایس کی وجہ سے بھارت کی دنیا بھر میں ہونے والی جگ ہنسائی بے نقاب
کیپشن: آر ایس ایس کی وجہ سے بھارت کی دنیا بھر میں ہونے والی جگ ہنسائی بے نقاب

ویب ڈیسک: رائٹرز کے تہلکہ خیز انکشافات نے آر ایس ایس کی وجہ سے بھارت کی دنیا بھر میں ہونے والی جگ ہنسائی کو بے نقاب کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی آر ایس ایس سے وابستگی نے بھارت کے “شائننگ انڈیا” بیانیے کا خاتمہ کر دیا۔ دنیا بھر سے تنقید، خصوصاً امریکی رپورٹس میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کی گئی، جس کے باعث آر ایس ایس نے بیرونی دوروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

 رائٹرز کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے آر ایس ایس کے خلاف ٹارگٹڈ پابندیوں کی سفارش کی ہے۔ سفارشات میں آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرنے اور امریکہ میں داخلے پر پابندی کی تجاویز شامل ہیں۔ آر ایس ایس نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عالمی تنقید کا جواب دینے کے لیے بیرون ملک رابطہ مہم تیز کر دی۔ آر ایس ایس رہنما نے امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں پالیسی سازوں، ماہرین اور کاروباری حلقوں سے ملاقاتیں کیں۔

رائٹرز کے مطابق آر ایس ایس نے نیم فوجی تنظیم اور اقلیت مخالف تشدد کے الزامات مسترد کر دیے۔  آر ایس ایس خود کو ہندو تہذیبی اور ثقافتی تحریک قرار دیتی ہے جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ امریکی کمیشن نے بھارت کو مذہبی آزادی کے حوالے سے خصوصی تشویش کا ملک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ عالمی سفارتی بحث کا حصہ بن رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نوجوانی میں آر ایس ایس سے وابستہ رہے۔

رائٹرز کے مطابق بی جے پی کے عروج میں آر ایس ایس کے رضاکار نیٹ ورک کا اہم کردار بتایا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کی عالمی رابطہ کاری بھارت کے لیے سافٹ امیج چیلنج بن رہی ہے۔ بھارت کا سرکاری مؤقف ہے کہ ایسی رپورٹس جانبدار ہیں۔ یہ بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 

ماہرین کے مطابق معاملہ پاکستان بھارت بیانیہ نہیں بلکہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کا عالمی مسئلہ ہے۔  امریکہ بھارت شراکت داری کے باوجود مذہبی آزادی کا سوال واشنگٹن میں دوبارہ زیر بحث ہے۔ آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارشات لازم نہیں مگر واشنگٹن کے پالیسی حلقوں کے لیے اہم اشارہ ہیں۔

Watch Live Public News