ویب ڈیسک: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آئندہ ہفتے نیویارک میں ملاقات متوقع ہے، جس نے بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں مسلسل دو سوالات زیرِ بحث ہیں: اس ملاقات کا ایجنڈا کیا ہوگا اور وزیراعظم کے ساتھ وفد میں کون کون شریک ہوگا؟
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات 25 ستمبر 2025 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس کے موقع پر متوقع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہوں گے۔ اگرچہ پاکستانی دفترِ خارجہ اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے اس ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، لیکن ذرائع کے مطابق اس حوالے سے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔
اس ممکنہ ملاقات کے ایجنڈے میں پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں پر گفتگو، خطے میں قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال، اور پاکستان بھارت کشیدگی شامل ہونے کا امکان ہے۔ مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات حالیہ مہینوں میں بہتر ہوئے ہیں، خاص طور پر توانائی، معدنیات اور تجارتی تعاون کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے امکانات کی وجہ سے۔
امریکی صدر ٹرمپ 23 ستمبر کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی پہلی سرسری ملاقات ممکن ہے۔ تاہم پاکستانی سفارتی عملہ کوشش کر رہا ہے کہ جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر دونوں رہنماؤں کی باضابطہ ملاقات بھی ہو۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 21 سے 27 ستمبر تک امریکا کا دورہ کریں گے اور 26 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اس دوران وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس اور دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے یہ ملاقات پاکستان کی سعودی عرب اور قطر کے ساتھ مشاورت کے بعد طے کی جا رہی ہے، تاکہ خطے کی حالیہ صورتِ حال میں پاکستان کا کردار مزید نمایاں ہو۔