ویب ڈیسک: بم ڈسپوزل اسکواڈ نے سولجر بازار کی رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے کو گیس لیکیج کا نتیجہ قرار دے دیا ہے۔
بم ڈسپوزل انچارج کے مطابق متاثرہ گھر کے باورچی خانے میں گیس کی فٹنگ ناقص تھی اور سپلائی کے لیے پلاسٹک کے پائپ استعمال کیے جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک پائپ اور غیر معیاری جوڑوں کے باعث گیس کے اخراج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت میں گیس کھینچنے والی مشینیں بھی نصب تھیں۔ اہلِ علاقہ کے مطابق کئی روز سے گیس بند تھی تاہم گزشتہ رات اچانک تیز پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی شروع ہوئی۔
بی ڈی ایس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر گیس کی چابی کھلی رہ جانے، شارٹ سرکٹ یا ماچس جلانے سے دھماکا ہوا۔
یاد رہے کہ کراچی میں گیس لیکج کے باعث ہونے والے اس دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ صبح تقریباً چار بجے پیش آیا، جس کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا۔
حادثے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی سخت کر دی جبکہ ریسکیو اداروں نے فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ عمارت تین منزلہ تھی اور ہر فلور پر ایک کمرہ قائم تھا۔ تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امدادی ٹیموں کے مطابق اب تک 16 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں چار بچے اور چھ خواتین شامل ہیں، جبکہ 12 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور واقعے کی مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔