امریکا-ایران مذاکرات مؤخر، نائب امریکی صدر کی سوئٹزرلینڈ روانگی بھی ملتوی

امریکا-ایران مذاکرات مؤخر، نائب امریکی صدر کی سوئٹزرلینڈ روانگی بھی ملتوی
کیپشن: امریکا-ایران مذاکرات مؤخر، نائب امریکی صدر کی سوئٹزرلینڈ روانگی بھی ملتوی

ویب ڈیسک: سوئس وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں آج متوقع مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔ وزارت کے مطابق مذاکرات کا نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزرلینڈ روانگی مؤخر ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر فی الحال آج رات روانہ نہیں ہو رہے، تاہم امریکا تکنیکی سطح کے مذاکرات کے جلد آغاز کا منتظر ہے۔

اس سے قبل سوئس وزارتِ خارجہ نے اطلاع دی تھی کہ امریکا اور ایران کے نمائندے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے برگن اسٹاک میں ملاقات کریں گے، جبکہ ثالثی کے عمل میں شامل پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع تھی۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ مذاکرات میں دونوں ممالک کی جانب سے کون سے اعلیٰ حکام یا نمائندے شریک ہوں گے اور بات چیت کی نوعیت کیا ہوگی۔ بعد ازاں سوئس حکام نے ملاقات سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ نئے اعلامیے میں دیگر ممالک کی ممکنہ شرکت کا ذکر بھی شامل نہیں تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران گزشتہ روز جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں۔ معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری سرگرمیوں کو معمول پر لانے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے صدور نے معاہدے کے حتمی متن کی توثیق کی، جس کے بعد عملی اقدامات کا آغاز کیا گیا۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کیے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

Watch Live Public News