ویب ڈیسک: معروف فِن ٹیک کمپنی کلارنا نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کسٹمر سروس میں انسانی معیار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد کمپنی کو دوبارہ انسانی رابطے کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔
"اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں" کی سہولت دینے والی کمپنی کلارنا نے 2021 میں AI پر انحصار شروع کیا تھا تاکہ کسٹمر سروس سمیت کئی شعبوں میں خودکاری (automation) کے ذریعے اخراجات کم کیے جا سکیں۔
2023 میں کمپنی نے جنریٹیو AI کے ذریعے ترجمے، آرٹ پروڈکشن اور ڈیٹا تجزیہ جیسے شعبوں کو آؤٹ سورس کر کے 10 ملین ڈالر کی بچت بھی کی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی نے ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی کی، جو 2022 کے آخر میں 5527 سے کم ہو کر دسمبر 2023 میں 3422 رہ گئی۔
تاہم، حالیہ بیان میں کلارنا کے سی ای او سباسٹین سیمیاٹکوسکی نے اعتراف کیا کہ AI ایجنٹس وہ معیار فراہم نہیں کر سکے جو انسانی ایجنٹس فراہم کرتے تھے۔
"ہم نے کسٹمر سروس میں AI کا استعمال کیا، لیکن نتائج سے پتا چلا کہ انسانی رابطہ ناگزیر ہے۔ ایک برانڈ کے طور پر ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ہمارے صارفین جب چاہیں، انسان سے بات کر سکیں گے،" سی ای او نے کہا۔
کلارنا نے اس تجربے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں AI کے استعمال کو متوازن رکھے گی اور انسانی عنصر کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گی۔
یہ صرف کلارنا ہی نہیں، بلکہ CrowdStrike اور Duolingo جیسی کمپنیاں بھی AI کو متعارف کروا کر اپنی افرادی قوت میں کمی کر چکی ہیں۔ ان فیصلوں نے جہاں کاروباری اخراجات میں کمی کی راہ ہموار کی، وہیں روزگار کے مستقبل پر کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
AI کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود، کلارنا جیسے اداروں کا انسانی رابطے کی اہمیت کو تسلیم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی احساسات اور تعلقات کا مکمل نعم البدل نہیں بن سکتی۔