کولمبیا میں ایک اورسوشل میڈیا انفلوئنسر کا قتل،خواتین کا تحفظ سوالیہ نشان

کولمبیا میں ایک اورسوشل میڈیا انفلوئنسر کا قتل،خواتین کا تحفظ سوالیہ نشان
کیپشن: لاطینی میں ایک اورسوشل میڈیا انفلوئنسر کا قتل،خواتین کا تحفظ سوالیہ نشان

ویب ڈیسک: (علی زیدی) کولمبیا کی 22 سالہ ماڈل اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ماریا ہوزے ایسٹوپینان کے قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ لاطینی امریکہ میں خواتین کے خلاف پرتشدد جرائم کے بڑھتے رجحان کی ایک اور علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ماریا ہوزے، جو شمال مشرقی شہر کُکوتا میں یونیورسٹی کی طالبہ تھیں، 15 مئی کو اس وقت قتل ہوئیں جب ایک شخص ڈیلیوری مین کے بھیس میں ان کے دروازے پر آیا اور انہیں گولی مار دی۔ 

یہ تفصیلات کولمبیا کی عدلیہ کی نیشنل جینڈر کمیشن کی صدر ماگدا وکٹوریا اکوسٹا نے ایک پریس کانفرنس میں بتائیں۔

اکوسٹا کے مطابق ماریا ہوزے ایک پُرعزم نوجوان لڑکی تھیں جنہوں نے زندگی میں کچھ بننے کا خواب دیکھا تھا، مگر ان کے خواب اسی طرح کچل دیے گئے جیسے اس ملک کی کئی دیگر خواتین کے۔ انہوں نے بتایا کہ ماریا ہوزے گھریلو تشدد کا شکار بھی رہ چکی تھیں اور انہیں جلد ہی معاوضہ ملنے والا تھا۔

فی الحال پولیس اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔

ماریا ہوزے کی فیس بک پروفائل پر ان کی تصاویر امریکہ کے مختلف شہروں جیسے نیویارک اور کیلیفورنیا کے سفر کی، سوئمنگ پول کے کنارے اور جم میں لی گئی تصاویر پر مشتمل تھیں، جو ان کے جدید طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ صرف دو دن بعد پیش آیا جب 13 مئی کو میکسیکو کی 23 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ویلیریا مارکیز کو ایک بیوٹی سیلون میں ٹک ٹاک لائیو اسٹریمنگ کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ مقامی حکام ویلیریا کے قتل کو " فیمیسائیڈ" یعنی خواتین کو صنفی بنیاد پر قتل کے طور پر جانچ رہے ہیں۔

فیمیسائیڈ: ایک سنگین مسئلہ

2020 میں میکسیکو میں خواتین کے قتل کے چوتھائی واقعات کو فیمیسائیڈ کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ملک کی تمام 32 ریاستوں میں خواتین کے خلاف ایسے جرائم رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماریا ہوزے کے قتل کو فیمیسائیڈ قرار نہیں دیا گیا، تاہم اکوسٹا کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کولمبیا میں خواتین کے خلاف تشدد کتنا عام ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مسلح گروہ بھی خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ متاثرین کو انصاف حاصل کرنے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔

اکوسٹا کے مطابق صرف جنوری تا اگست 2023 کے دوران کولمبیا میں 41 خواتین لاپتہ ہوئیں، جن میں سے 34 کا تعلق کُکوتا شہر سے تھا۔ ان میں زیادہ تر کم عمر لڑکیاں تھیں۔

علاقائی کشیدگی اور تشدد

کولمبیا کے شمال مشرقی علاقے حالیہ مہینوں میں شدید عدم استحکام کا شکار رہے ہیں، جہاں عسکری گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ صرف جنوری 2024 میں کاتاتومبو خطے میں بڑھتی لڑائی کے بعد بڑی تعداد میں لوگ کُکوتا کی جانب ہجرت کر چکے ہیں، جہاں فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر