پرو خالصتان سکھ کارکنوں نے اوسلو میں نریندر مودی کے دورۂ ناروے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا، ڈیلی ٹائمز

پرو خالصتان سکھ کارکنوں نے اوسلو میں نریندر مودی کے دورۂ ناروے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا، ڈیلی ٹائمز

(ویب ڈیسک) ڈیلی ٹائمز کے مطابق پرو خالصتان سکھ کارکنوں نے اوسلو میں نریندر مودی کے دورۂ ناروے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

ڈیلی ٹائمز  کے مطابق نریندر مودی ناروے کے اعلیٰ ترین اعزاز “گرینڈ کراس” کے حصول کیلئے اوسلو پہنچے۔ مظاہرین تقریب کے مقام کے باہر جمع ہوئے اور مسلسل نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

مظاہرین نے مودی حکومت پر عالمی سطح پر مبینہ “ہندوتوا انتہا پسندی” پھیلانے کے الزامات عائد کیے۔ سکھ کارکنوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں مودی کو “ہندوتوا دہشتگردی کا چہرہ” قرار دیا گیا۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق   اوسلو کے متنازع دورے کے دوران نریندر مودی کو سخت سکیورٹی حصار میں رکھا گیا۔احتجاج کے باعث مودی حامیوں اور سکھ مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ 

تجزیہ کار کے مطابق اوسلو میں سکھ مظاہرین نے بھارت پر عالمی سطح پر اختلافِ رائے دبانے کے الزامات لگا کر مودی کو سخت سبکی سے دوچار کیا۔ خالصتان کے پرچموں اور ہندوتوا مخالف نعروں نے مودی کی عالمی امیج سازی مہم کو کھلا چیلنج دے دیا۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ  مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ سکھ کارکنوں کے خلاف جبر کے الزامات کے باوجود ناروے مودی کو اعزاز کیوں دے رہا ہے۔ناروے میں ہونے والے مظاہروں نے واضح کر دیا کہ بھارتی دباؤ کے باوجود خالصتان تحریک آج بھی عالمی سطح پر بھرپور گونج رکھتی ہے۔

Watch Live Public News