ویب ڈیسک : (علی رضا)جلدی جنگ ختم کرو۔۔۔ امریکا نے یوکرینی صدر کوآمر قراردیدیا۔ روس کا خیرمقدم ، جلد واشنگٹن سے نتیجہ خیزمذاکرات چاہتا ہوں لیکن تیاری کرنا ہوگی پوٹن ۔۔ امریکا روس مذاکرات سے یورپ ٹینشن میں آگیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک ایسا آمر قرار دیا جو الیکشن کے بغیر آئے ہیں، اس سے پہلے زیلنسکی نے ٹرمپ پر الزام لگایاتھا کہ وہ روس کے زیر اثر "گمراہ کن معلومات" میں رہتے ہیں۔
کریملن نے کہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے 'بالکل' متفق ہے جب امریکی صدر نے ولادیمیر زیلنسکی کو یوکرین میں تنازعہ ختم کرنے کے لیے 'تیزی سے آگے بڑھنے' کی تنبیہ کی تھی۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد از جلد امن قائم کرنے کی ضرورت پر بات کریں اور اسے مذاکرات کے ذریعے کریں۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ممکنہ امن مشن کے حصے کے طور پر یوکرین میں یورپی فوجیوں کو بھیجنے کا کوئی بھی منصوبہ روس کے لیے ناقابل قبول ہو گا اور وہ ایسی تجاویز پر تشویش کے ساتھ نگرانی کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیف کے رہنما پر تنقید کی، جنہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی رہنما کیف کے مقابلے میں ماسکو کے لیے زیادہ سازگار شرائط پر جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے زیلنسکی پر یوکرین میں اپریل 2024 میں ہونے والے انتخابات کے انعقاد سے انکار کرنے کا الزام لگایا، جن میں روس کے حملے کے بعد تاخیر ہوئی تھی۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کو "ایک ایسا معمولی سا کامیاب کامیڈین" کہا جنہوں نے باتیں بنا کر امریکہ سے 350 ارب ڈالر ، ایک ایسی جنگ میں جانے کے لیے خرچ کرو ا دیے جو جیتی نہیں جا سکتی تھی، اورجسے کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہئے تھا، صدر نے لکھا,"ایک ایسی جنگ جس کا تصفیہ وہ، امریکہ اور "ٹرمپ" کے بغیر کبھی نہیں کرسکیں گے۔
اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر بدھ کے روز ایک نئے تبصرے میں، ٹرمپ نے کہا"میں یوکرین سے محبت کرتا ہوں، لیکن زیلنسکی نےانتہائی خراب کار کردگی دکھائی ہے، ان کا ملک بکھر گیا ہے، اور لاکھوں لوگ بلاجواز مر چکے ہیں - اور یہ جاری ہے...،"
دوسری طرف روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے بدھ کو کہا کہ روس کو پڑوسی ملک یوکرین کے خلاف ان کے ملک کی تین سالہ جنگ کے حل سے قبل امریکا کے ساتھ اعتماد قائم کرنےکی ضرورت ہے۔
پوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ منگل کو سعودی عرب میں اعلیٰ امریکی اور روسی حکام کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے نتائج سے خوش ہیں، انہوں نے انہیں "اعلیٰ" قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان متنازعہ تعلقات کو بہتر بنانےکی جانب پہلا قدم ہے۔
پوٹن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والےبیان میں کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سربراہی اجلاس منعقد کرنا چاہیں گے، لیکن اس کیلئے تیاری کی ضرورت ہے تاکہ کوئی نتائج سامنے آسکیں۔
پوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک ڈرون فیکٹری کے دورےمیں کہا کہ"میری رائے میں، ہم نے باہمی مفادات کے مختلف شعبوں میں کام کی بحالی کے لیے پہلا قدم اٹھایاہے۔"